امریکہ میں مہنگائی کا30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، پی ٹی آئی وزراء کا حکومتی پالیسی کا دفاع

امریکہ جب خلیجی ممالک کے ساتھ جنگوں میں مشغول تھا، اُس وقت بھی اتنی مہنگائی نہیں تھی۔

امریکہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں گزشتہ برس اکتوبر کے مقابلے میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ ، ملک میں مہنگائی کی شرح 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

امریکہ کے سرکاری محکمے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے کھانے، گیس اور دیگر گھریلو اشیا کی قیمتیں دسمبر 1990 کے بعد پہلی بار  30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، ماہرین معاشیات نے بتایاکہ سابق صدر جارج بش کے دورِ حکومت میں جب امریکا ، عراق اور خلیجی ممالک کے ساتھ جنگوں میں مشغول تھا، اُس وقت بھی اتنی مہنگائی نہیں تھی۔ ہر سال مہنگائی کی شرح میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہےتاہم رواں برس ستمبر تک گھریلو اشیا کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں سائنسی تحقیق کےلئے عطیہ کردہ جسم  فروخت کردیا گیا  

پاکستان کے لیے امریکی امداد میں دھوکا دہی کا انکشاف

امریکہ میں مہنگائی کی خبروں  پر حکمران جماعت کے وزراء  پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کا دفاع کرنے کی کوششوں میں  مصروف ہیں ، وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل  نے اپنے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ پر  امریکہ میں تیس سالوں کی تاریخی مہنگائی کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  "یہ ہیں امریکہ کے حالات”۔

شہباز گل کی پوسٹ پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ "کیا ہم نے  امریکہ میں ووٹ دیے تھے؟ ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ   امریکہ میں  فی کس آمدنی  کا بھی تو تذکرہ کریں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےبھی نیویارک ٹائمز کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہےکہ  امریکی معیشت میں قیمتوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کو صدر بائیڈن  نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس درد کو  محسوس کررہے ہیں جس  سے امریکی شہر گزر رہے ہیں۔ بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اقتصادی امور کے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ توانائی کی قیمتوں اور افراط زر کے دیگر ذرائع کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

متعلقہ تحاریر