سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے مریم نواز کی نئی آڈیو کی تصدیق کردی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کیا مریم نواز (ن) لیگ کے دور حکومت میں میڈیا مینجمنٹ کرتی تھیں؟۔

سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محمد زبیر نے تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی دوسری سامنے آنے والی آڈیو بھی انہی کی ہے۔

ہم نیوز کی پروگرام اینکر پرسن مہر بخاری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان مریم نواز ، محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جس آڈیو کا ذکر ہورہا ہے وہ مریم نواز کی آواز ہے۔ مگر میں اس کو ایکسپلین کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ کون سی سیاسی پارٹی ہے جو اپنے سیاسی اشتہارات دینے کے لئے خود فیصلے نہیں لیتی۔

یہ بھی پڑھیے

مفرور نواز شریف سے میرا موازنہ نہیں کریں، شیریں مزاری

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس، اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع

سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے اعتراف کے بعد وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز شریف گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "مریم صفدر کے ترجمان نے مہر بخاری کے پروگرام پر یہ اقرار کر لیا کہ تازہ ترین آڈیو مریم صفدر کی ہی ہے۔  ماشاللہ اللہ نے ایسے بے نقاب کیا اب یہ اپنے مکروہ ترین دھندہ ماننے پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ عمران خان پر جھوٹی تہمتیں لگاتے ہیں اور اللہ نے ان کو انہی کے گھڑے میں گرا دیا۔”

شہباز گل نے ہم نیوز چینل کے پروگرام کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” یہ لوگ سب کچھ مانیں گے۔  ابھی آگے آگے اور بھی مانیں گے۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی تصدیق کے بعد بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں مریم نواز میڈیا مینجمنٹ کے فرائض انجام دے رہی تھی۔ اور ان کے نئی سامنے آنے والی آڈیو سےبھی یہی لگتا ہے کہ تمام میڈیا اونرز کی انگلیوں کے اشاروں پر چلتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کسی بھی آزاد معاشرے کی آزاد آواز ہوتا ہے اور اگر وہ آواز بک جائے تو پھر سچائی کی تلاش کہاں کی جائے گی۔ پاکستان کی تمام حکومتیں یہ دعوے کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں کہ ان کے دور حکومت میں میڈیا کو سب سے زیادہ آزاد حاصل ہے، مگر عملی طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا ہے۔

اخباری میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا عام عوام تک خبر پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور اگر میڈیا ہاؤسز اوپر کی ہدایات پرعمل کریں گے تو خبروں میں سچائی کہاں سے آئے گی اور اگر سچائی ہو گی بھی تو اس کو مشکوک سمجھا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر