بھارتی فوج کا ناگا لینڈمیں 13بےگناہ شہریوں کے قتل کا اعتراف
مقامی لڑکے کان میں مزدوری کے بعد واپس جارہے تھے،بھارتی فوج نے گھات لگاکر گاڑی پر فائرنگ کردی
بھارتی فوج نے شورش زدہ ریاست ناگا لینڈ میں سرچ آپریشن کے دوران 13 بے گناہ شہریوں کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔
اتوار کی صبح ایک بیان میں آسام رائفلز نے کہا کہ باغیوں کی ممکنہ نقل و حرکت کی مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر ناگالینڈ کے ضلع مون کے علاقے ترو میں ایک مخصوص آپریشن کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا میں پولیس نے گائے ذبح کرنے پر 7 مسلمانوں کو گرلیاں مار دیں
بھارتی پولیس صحافیوں کے خلاف تفتیش بند کرے، سی پی جے
مقامی رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے متاثرین کو کالعدم جماعت نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے ینگ آنگ دھڑے کا رکن سمجھ لیا۔مقامی میڈیا کے مطابق چند مقامی لڑکے ہفتے کی شام ایک کان میں کام کرنے کے بعد اپنے گاؤں واپس جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر سیکورٹی اہلکاروں نے گھات لگاکر فائرنگ کی۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ٹرک میں سوار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
سیکورٹی فورسز کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ غلط شناخت کا معاملہ ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ کچھ معلومات کی بنیاد پر، فورسز ہفتے کی شام 5:30 بجے کے قریب ایک مخصوص بولیرو کار میں لوگوں کا انتظار کر رہی تھیں۔ اہلکار نے بتایا کہ اندھیرا پہلے ہی تھا جب انہوں نے اسی طرح کی ایک بولیرو کو دیکھا تو ایک آپریشن شروع کردیا۔
آپریشن اور بعد میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں 13 شہری مارے گئے جبکہ جھڑپوں میں زخمی ہونے والا ایک سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔ریاستی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کیلیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔
بھارٹی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کوبھی ناگالینڈ کے ضلع مون میں صورتحال بدستور کشیدہ رہی۔حکام کے مطابق مشتعل دیہاتیوں کے ایک بڑے ہجوم نے مون شہر میں آسام رائفلز کیمپ کی طرف مارچ کیا ۔ سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اور شہری ہلاک ہوگیا۔









