وزیراعظم اور گورنر پنجاب کی ون آن ون ملاقات، اصل کہانی سامنے آگئی
عمران خان نے چوہدری محمد سرور کے لندن میں بیانات پر کڑی سرزنش کی اور انہیں جہانگیر ترین سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم عمران خان اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع کا کہنا ہے وزیراعظم نے گورنر پنجاب کےدورہ برطانیہ کے دوران ان کے بیانات پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہویے ان کی سرزنش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ زور دورہ لاہور کے موقع پر گورنر پنجاب سے ون آن ون ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے چوہدری محمد سرور سے ان کے برطانیہ میں آئی ایم ایف اور مہنگائی کے حوالے سے دیئے گئے بیانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ انہوں نے وہ بیانات کیوں اور کس تناظر میں دیئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
تنخواہوں کی عدم ادائیگی: "آپ” نیوز کے 4 صحافیوں نےانتظامیہ پر مقدمہ کردیا
ہم ٹی وی کی طرح دیگر میڈیا ہاؤسز بھی اپنے کھاتے پبلک کریں، فواد چوہدری
ذرائع کے مطابق عمران خان نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں دورہ لندن کے دوران اینٹی پی ٹی آئی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اس پر گورنر پنجاب کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے۔
وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ کچھ لوگ جہانگیر ترین کے ساتھ ملکر حکومت کو گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ جہانگیر خان سے دوری اختیار کریں۔
دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی وطن واپسی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین لندن روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی اینٹی پی ٹی آئی لوگوں سے ملاقاتیں طے ہیں۔
واضح رہے کہ گورنر پنجاب دے دورہ برطانیہ کے دوران جوش خطابت میں یہ کہا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کے بدلے میں پاکستان کی خود مختاری گروی رکھ دی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ 6 ارب ڈالر تین سالوں میں دو ، دو ارب کی صورت میں ملنے ہیں جبکہ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی ہر سال 30 ارب ڈالر بھجواتے ہیں۔
مہنگائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا تھا کہ ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور حکومت اس پر قابو میں ناکام رہی ہے۔
بعدازاں گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ ان کے آئی ایم ایف کے قرض سے متعلق بیان کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا تھا۔









