کیا پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کا نیا جنم ہو رہا ہے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پی ٹی آئی کی حکومت سے مایوس ووٹرز واپس اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے پی پی پی کا ووٹ بینک بڑھ رہا ہے۔

میدان کھیل کا ہو یا سیاست کا دونوں صورتوں میں فریقین اپنا اپنا زور دکھاتے ہیں ۔ ہار جیت گیم کا حصہ ہوتی ہے۔ این اے 133 لاہور اور پی پی 206 خانیوال کے ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان ملک میں موجود ہونے کے باوجود ہار گئے جبکہ ملک سے فرار شخص نے لندن میں یٹھ کو پارٹی کو جیت دلوا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جیو نیوز کی ناقص رپورٹنگ سے مطیع اللہ جان بھی ناخوش

شریف فیملی نے غریب ملازمین کے ذریعے منی لانڈرنگ کی

این اے 133 اور پی پی 206 کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے میدان مارلیا ہے مگر دونوں انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ووٹ بینک بڑھا ہے۔ لاہور کے ضمنی انتخاب میں پی پی پی نے 32 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے جبکہ خانیوال کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی تیسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔

لگ رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹر جاگ رہا ہے اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کی کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ دونوں ضمنی اںتخابات کے نتائج سے لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا ووٹر اپنی قیادت سے مایوس ہوتا جارہا ہے۔

2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 45.02 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ 2021 کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کو 42.81 ووٹ پڑے ہیں اس کو مطلب ہے کہ ن لیگ کے ووٹوں میں 2 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو 2018 کے عام انتخابات میں 5.79 فیصد ووٹ پڑے اور 2021 کے ضمنی انتخاب میں 13.53 فیصد ووٹ پڑے ہیں یعنی کا پی پی کا ووٹ بینک 8 فیصد انکریز ہوا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن Pakistan Peoples Party PML-N
news 360

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے ٹوئٹر پر جاتے ہوئے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "پی پی 206، خانیوال 4 پنجاب میں لگاتار دوسرا ضمنی انتخاب ہے جہاں پی پی پی کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ 2018 میں 5.86 فیصد سے بڑھ کر 13.53 فیصد ہو گیا ہے۔ فاتح PMLN کا ووٹ 45 سے کم ہوکر 42.8 فیصد ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی کا ووٹ 41.9 سے 30.58 فیصد تک گر گیا ہے جبکہ ٹی ایل پی کا ووٹ 5 سے بڑھ کر 8.64 فیصد ہو گیا۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے گوکہ مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت سے پی پی 206 کا ضمنی انتخاب جیتا ہے حکمران جماعت نے 34 ہزار سے زائد ووٹ بھی لیے ہیں مگر پیپلز پارٹی 15 ہزار ووٹ لے کر اپنے مخالفین کو حیران کردیا ہے خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ پریشان کن بات ہے وہ پارٹی جو 2018 کے عام انتخابات میں پنجاب کی سطح پر بری طرح ناکام ہوئی تھی اس نے سروائیو کرنا شروع کردیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ عوام اب پی ٹی آئی کا چورن خریدنے کو تیار نہیں ہیں۔ وعدے اور دعوؤں کے علاوہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کو کچھ نہیں دے سکی سوائے مہنگائی کے۔ پیپلزپارٹی کا حدف الیکشن جیتنا نہیں صرف یہ دکھانا تھا کہ ہمارے ووٹ خاصی تعداد میں موجود ہیں جس میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ووٹوں میں معمولی کمی واضح طور پر کم ٹرن آؤٹ کی وجہ ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے ووٹرز جو کہ اصل میں پی پی پی کے ووٹرز تھے اب پی ٹی آئی سے مایوس ہوکر اپنے اصل کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کا اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا۔

متعلقہ تحاریر