قومی اسمبلی کا اجلاس، اپوزیشن نے منی بجٹ کو روکنے کی تیاری کرلی

حزب اختلاف کا کہنا ہے اس بل کی منظوری سے غریب پاکستانیوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا جبکہ بےروزگاری بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔

اسلام آباد: ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے متعلق ترامیم پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) طلب کیا گیا ہے ۔ قومی اسمبلی کے طلب کیے گئے اجلاس کا بڑا ایجنڈا فنانس بل (یعنی منی بجٹ) ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اجلاس شروع ہونے سے قبل مشترکہ اپوزیشن کی اسٹریٹجک کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا ہے ، جس میں بل کی منظوری کو روکنے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات بھی متوقع ہے جس میں بلوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

شیرشاہ نالے پر دھماکے کے باوجود تجاوزات بدستور قائم

چیئرمین سینیٹ کے بھائی ٹریفک حادثے میں جاں بحق

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پیر کے اجلاس کے لیے 48 نکاتی ایجنڈا جاری کیا تھا ، جس میں بل میں ترامیم کی تحریک بھی شامل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت سفارشات کی تیاری کے لیے بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر غور تھا۔

30 دسمبر 2021 کو وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود قومی اسمبلی میں ‘منی بجٹ’ پیش کیا تھا۔ حکومتی بنچز اکثریت کی بنیاد پر ایجنڈے کے آئٹمز کو آگے بڑھاتے رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ترمیمی بل 2021 بھی ایوان میں پیش کیا گیا، جسے جانچ کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا تھا۔

فنانس سپلیمنٹری بل کی منظوری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے 6 بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری مل جائے۔

حکومت نے 12 جنوری کو آئی ایم ایف کے اجلاس سے قبل اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے مالی معاونت کے پروگرام پر نظرثانی ملتوی کرنے کی درخواست قبول کر لی ہے ، آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اب 28 یا 31 جنوری کو جائزہ لیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مالیاتی بل (منی بجٹ) جنوری کے وسط میں قومی اسمبلی سے منظور کرا لیا جائے گا جبکہ آئی ایم ایف کو پہلے ہی 12 جنوری کو ہونے والے اجلاس کو ری شیڈول کرنے کی درخواست کی جاچکی ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے منی بجٹ کو قومی اسمبلی سے پاس کرانے کے اقدام کی بھرپور مخالفت کی تیاری کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بل منظور کرانے کا مقصد ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھنے کے برابر ہے۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے اس بل کی منظوری سے غریب پاکستانیوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا جبکہ بےروزگاری بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔

واضح رہے کہ 30 دسمبر 2021 کو جب وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تو اس وقت حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے سرکردہ لیڈرشپ قومی اسمبلی میں موجود نہیں تھی۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پی پی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری بھی قومی اسمبلی سے غیرحاضر تھے۔

قومی اسمبلی کے گذشتہ سیشن کے دوران اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وزیر خزانہ ترین نے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز قوانین میں 375 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز پیش کی تھیں۔

متعلقہ تحاریر