طلاق کے بعد معاشرہ عورت سے جینے کا حق چھین لیتا ہے، عنبرین فاطمہ

صحافی عنبرین شوہر سے علیحدگی کے بعد بچوں سمیت بیرون ملک منتقل ہوگئی ہیں، وہ ٹوئٹر پر دل کی بھڑاس نکالیں تو اس پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔

صحافی عنبرین فاطمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کے منفی سماجی رویوں سے پہنچنے والی تکلیف پر دکھ کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ٹوئٹر پر دل ہلکا کرنے کے لیے کچھ لکھ دوں تو اس پر بھی لوگوں کو اعتراض ہے۔

عنبرین فاطمہ لاہور میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد بچوں سمیت امریکہ منتقل ہوگئی ہیں، اس سے قبل احمد نورانی نے انہیں طلاق بھی دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

حملے کے بعد عنبرین فاطمہ کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو چپ کیوں لگ گئی؟

ثاقب نثار کی آڈیو لیک کا پہلا نتیجہ، احمد نورانی سے عنبرین فاطمہ کا خلع لینے کا فیصلہ

زندگی میں پے در پے رونما ہونے والے ان واقعات پر عنبرین دکھی اور اداس ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص مشکل سے نکلنے کی کوشش کرے تو سب اسے دوبارہ اسی مشکل میں دھکیلتے ہیں۔

عنبرین فاطمہ نے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں شوہر مر جائے تو لڑکی کے سجنے سنورنے تیار ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

عنبرین فاطمہ ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہیں، قاتلاںہ حملہ، اس کے فوری بعد بچوں سمیت بیرون ملک منتقل ہونا اور طلاق، ان تینوں معاملات سے جڑے ہوئے ناجانے کتنے مسائل کا سامنا وہ بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ کر رہی ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ عنبرین سمیت ایسی کسی بھی خاتون کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تو ایک کام ضرور کرسکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اپنی زبانیں بند کرلی جائیں۔

دکھی شخص کو اپنے کتھارسس کا موقع دینا چاہیے، اسے بھڑاس نکالنے دینا چاہیے، اس طرح اس کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔

خاموش رہنے میں ناجانے ہمارا ایسا کیا نقصان ہوتا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں ٹانگ اڑا کر اوٹ پٹانگ مشورے دینا فرض سا لگنے لگا ہے۔

متعلقہ تحاریر