طلاق کے بعد معاشرہ عورت سے جینے کا حق چھین لیتا ہے، عنبرین فاطمہ
صحافی عنبرین شوہر سے علیحدگی کے بعد بچوں سمیت بیرون ملک منتقل ہوگئی ہیں، وہ ٹوئٹر پر دل کی بھڑاس نکالیں تو اس پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔

صحافی عنبرین فاطمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کے منفی سماجی رویوں سے پہنچنے والی تکلیف پر دکھ کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ٹوئٹر پر دل ہلکا کرنے کے لیے کچھ لکھ دوں تو اس پر بھی لوگوں کو اعتراض ہے۔
میری شادی کا سفر شروع ہوا اور بچے دنیا میں آئے ہی تھے تو جھوٹی طلاق کا دعوی کرکے چھوڑ دیا گیا،صدمہ اتنا بڑا ہے نیند نہیں آتی،نہ فی الوقت مستقبل کا پتہ ہے کیا ہوگا کیسے اکیلی ساری ذمہ داریاں نبھاوں گی کسی سے رابطہ کرنے کو دل نہیں کرتا لیکن اگر اس ٹویٹر پہ کچھ ہلکا پھلکا لکھ
— Ambreen Fatima (@AmbreenFatimaAA) January 10, 2022
عنبرین فاطمہ لاہور میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد بچوں سمیت امریکہ منتقل ہوگئی ہیں، اس سے قبل احمد نورانی نے انہیں طلاق بھی دے دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
حملے کے بعد عنبرین فاطمہ کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو چپ کیوں لگ گئی؟
ثاقب نثار کی آڈیو لیک کا پہلا نتیجہ، احمد نورانی سے عنبرین فاطمہ کا خلع لینے کا فیصلہ
زندگی میں پے در پے رونما ہونے والے ان واقعات پر عنبرین دکھی اور اداس ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص مشکل سے نکلنے کی کوشش کرے تو سب اسے دوبارہ اسی مشکل میں دھکیلتے ہیں۔
ہماری سوساِٹی کاالمیہ ہےکہ شوہرمرجائے تولڑکی کےسجنےکوسال ہا سال تک معیوب سمجھاجاتاہے،کسی کی شادی ناکام ہوجائے تواسکےبارےگھٹیاباتیں کی جاتی ہیں ہنس بھی لےغلطی سے،کہیں کچھ کہہ دےیالکھ دےتوکہاجاتاہے،لوجی یہ ابھی پریشان ہے،فٹافٹ معترض ہوجاتےلوگ،یہ گھٹیاسوچ نہ جانےکب جان چھوڑےگی ہماری
— Ambreen Fatima (@AmbreenFatimaAA) January 10, 2022
عنبرین فاطمہ نے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں شوہر مر جائے تو لڑکی کے سجنے سنورنے تیار ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔
عنبرین فاطمہ ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہیں، قاتلاںہ حملہ، اس کے فوری بعد بچوں سمیت بیرون ملک منتقل ہونا اور طلاق، ان تینوں معاملات سے جڑے ہوئے ناجانے کتنے مسائل کا سامنا وہ بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ کر رہی ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ عنبرین سمیت ایسی کسی بھی خاتون کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تو ایک کام ضرور کرسکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اپنی زبانیں بند کرلی جائیں۔
دکھی شخص کو اپنے کتھارسس کا موقع دینا چاہیے، اسے بھڑاس نکالنے دینا چاہیے، اس طرح اس کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔
خاموش رہنے میں ناجانے ہمارا ایسا کیا نقصان ہوتا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں ٹانگ اڑا کر اوٹ پٹانگ مشورے دینا فرض سا لگنے لگا ہے۔









