منی بجٹ پاس، اپوزیشن فیل، اتحادی حکومت  کی  ڈھال بن گئے

150 کے مقابلے حکومت  کو 168 ارکان  کی حمایت ملی، ق لیگ، ایم کیو ایم اور  جی ڈی اے آخر تک ساتھ کھڑے رہے

قومی اسمبلی میں منی بجٹ پاس اور اپوزیشن فیل ہوگئی، اتحادی  جماعتیں حکومت  کی  ڈھال بن گئیں۔150 کے مقابلے حکومت  کو 168 ارکان  کی حمایت ملی، ق لیگ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے آخر تک ساتھ کھڑے رہے۔

قومی اسمبلی کا اہم اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا، ایوان نے منی بجٹ بل کو منظور کرلیا، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں،منی بجٹ پر کلاز ایک پر ترمیم کے دوران اپوزیشن کو ناکامی ہوئی، حکومت کے 168اراکین نے مخالفت کی جبکہ اپوزیشن کے 150اراکین  نے ترمیم کے حق  میں ووٹ دیا۔

یہ بھی پڑھیے
ضمنی مالیاتی بل کا معاملہ، اپوزیشن کی تمام ترامیم بھاری اکثریت سے مسترد

ٹیلی کام کمپنیز کا منی بجٹ میں ٹیکسز میں اضافے پر تحفظات کا اظہار

 بل پر اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں، حکومتی ترامیم منظور کرلی گئیں، ایم کیو ایم کی طرف سے ترامیم واپس لے لی گئیں، حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ممبران کی تعداد زیادہ سے زیادہ رکھنے کے لئے بھرپور زور لگایا گیا، حکومت اپنے نمبر پورے کرنے اور اتحادیوں کو ساتھ رکھنے میں کامیاب رہی۔

ضمنی مالیاتی بل میں بعض ترامیم کی منظوری دیدی گئی ہے اور ضمنی مالیاتی بل میں چھوٹے پیمانے کی دکانوں پر بریڈ، سوئیاں، نان، چپاتی، شیر مال، بن، رس پر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، تاہم مختلف برانڈز کی بیکریوں اور ٹیئر ون بیکریز، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دوکانوں پر ان اشیا کی فروخت پر ٹیکس ہوگا۔

فارمولا دودھ پر سیلز ٹیکس لاگو،لال مرچ اور آیوڈین ملے نمک کو چھوٹ مل گئی

حکومت نے منی بجٹ میں بچوں کےتمام اقسام کے فارمولا دودھ  کے  500 روپے سے زائد  کے ڈبے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا تاہم فارمولہ دودھ پر جی ایس ٹی میں رعایت کر دی گئی۔ 500 روپے مالیت کے 200 گرام دودھ کے ڈبے پر جی ایس ٹی نہیں ہوگا  جبکہ 500 روپے سے زیادہ مالیت کے فارمولہ دودھ پر 17 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ لال مرچ اور آئیوڈین ملے نمک پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا۔

 درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا

 1800 سی سی کی مقامی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز  ٹیکس لاگو ہوگا ۔1801 سے 2500 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عائد ہوگا ۔درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ درآمدی گاڑیوں پر تجویز کردہ 5 فیصد کے بجائے 12.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا۔  تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بدستور قائم رہے گی۔ مقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی کی گاڑی پر ڈھائی فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی ۔ اس سے پہلے 1300 سی سی کی مقامی گاڑی پر 5 فیصد ڈیوٹی لگانے کی تجویز تھی ۔  1301 سے 2000 سی سی کی مقامی گاڑی پر 10 کے بجائے 5 فیصد ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔  2001 سی سی سے اوپر کی مقامی گاڑی پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بیکری اشیا، دودھ، سولر پینلز اور لیپ ٹاپ پر ٹیکس نہیں لگا رہے،وزیرخزانہ

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ترامیم کے دوران جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن والے کہتے ہیں کہ اتنا بڑا بل کیوں لے آئےکیا واویلا مچا ہوا ہے کہ طوفان آگیا ہے،بیکری اشیا، دودھ، سولر پینلز اور لیپ ٹاپ پر ٹیکس نہیں لگا رہے،حکومت ڈاکیومنٹیشن چاہتی ہے، وزیرخزانہ نے کہا کہ مالیاتی بل ٹیکس کاطوفان نہیں ہے ۔پاکستان میں 20 ٹریلین کی سیل ہے 343 ارب میں سے272 ارب ‏روپے ریفنڈ ہوگا، بل سےمزیدٹیکس ‏نہیں لگایاجارہاصرف ڈاکومین ٹیشن ہورہی ہے واویلا مچایا جا رہا ہے بل سے مہنگائی کا طوفان آجائے گا، لیپ ‏ٹاپ، سولر، ڈبل روٹی ، دیگرچھوٹی چیزوں پر ٹیکس نہیں لگا رہے۔شوکت ترین نے کہا کہ ڈاکومین ٹیشن سے معلوم ہو گا کس نےکتنا کمایا ڈاکومین ٹیشن سےسب بھاگتےہیں ‏ضمنی مالیاتی بل ٹیکس کاطوفان نہیں ہے۔ آج پاکستان میں 20 ٹریلین کی سیل ہے 343 ارب میں سے272 ارب ‏روپے ریفنڈ ہوگا، 70سال میں کب ٹیکس ٹوجی ڈی پی 19،18فیصد پر گیا ہے۔

ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا،شوکت ترین

شوکت ترین نے کہا ہے کہ دوستوں کا شور مچ رہا ہے کہ آئی ایم ایف نے برباد کر دیاہماری خود مختاری پر سودے بازی ہورہی ہے ، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی تیرہ مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئے،کیا اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے تیرہ مرتبہ ملک کی خودمختاری کو داؤ پر لگایا ؟انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات گزشتہ حکومت سے 50 فیصد زائد ہیں ۔حالات کے پیش نظر ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھاہم مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس گئےرواں سال برآمدات 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔

سابقہ حکومتوں کو ذمے دار قرار دینے والے شوکت ترین  انکے وزیرخزانہ تھے،بلاول بھٹو

 بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ گرتی معیشت کے ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں اور دوسری جانب وہ سابقہ حکومت کے وزیر خزانہ تھے۔  بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری جانب سے پیش کی گئی ترمیم اس لئے طویل تھی کہ حکومت نے بہت ساری اشیائے ضروریات کی چیزوں پر ٹیکس لگا کر مہنگائی کا طوفان لانے کی تیاری کر لی ہے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ کراچی کے عوام وزیر خزانہ کے گھر کا پتہ جانتے ہیں اور وہ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کے گھر کا رخ کریں گے۔

عوام پر مزید ٹیکسز کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ آئے ہوئے 6 ماہ ہوئے اور یہ ضمنی ‏بجٹ آگیاہے کیاحکومت کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے؟ عوام پر مزید ٹیکسز کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے، ہمیں ‏یہ بتائیں بل کےبعدکون سی چیزیں مہنگی نہیں ہوں گی۔شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ نیپرا کے مطابق تیل سے مہنگی بجلی بنائی جا رہی ہے، 350 ارب روپے کے نئے ‏ٹیکسز لگیں گے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے حکمران عوام کاکچھ احساس کریں۔

اجلاس کے دوران وزیر دفاع پرویز خٹک اور ایاز صادق کے درمیان مکالمہ ہوا پرویز خٹک نے کہا کہ آپ جب اسپیکر تھے آپ نے کتنے بلز بلڈوز کیے تھے جس پر ایاز صادق نے کہا کہ پرویز خٹک میرے سینئر ہیں مگر میں گزارش کروں گا کہ میرے پانچ سالوں کا ریکارڈ نکال لیں۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل کی ہر شق پر رائے شماری ہونی چاہیے، اگر ایک ہی شق پر رائے شماری کے بعد ضمنی مالیاتی بل منظور کرنا ہے تو ہر سال بجٹ بھی ایسے منظور کرلیا جانا چاہئے ۔

متعلقہ تحاریر