دونوں میں سے کسی ایک تصویر پربھی اعتراض ہے تو آپ شدت پسند ہیں
یہ تاثر عام ہوچکا ہے انتہا پسندی کے بروقت خاتمے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

آج دنیا بھر میں شدت پسندی کے حوالے سے تقاریر تقاریب اور سیمنارز ہونا معمول بن گیا ہے ، شدت پسندی ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس نے سماج میں سچائی تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، پاکستانی معاشرے کو بھی شدت پسندی کا سامنا ہے ۔ شدت پسندی درحقیقت میں ہے کیا اور یہ کیسے پیدا ہوتی ہے اس کے اسباب پر جب تک غور نہیں کیا جائے گا ہم اس عفریت سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا میں اس شد ت پسندی اور انتہا پسندی کی اصطلاح کو دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور یہ تاثر عام ہوچکا ہے انتہا پسندی کے بروقت خاتمے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
قانون پر عمل داری کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، فواد چوہدری
مفتی منیب الرحمان نے غریدہ فاروقی کا کہا غلط ثابت کردیا
اگر آپ کو ان دونوں تصاویر میں سے کسی پر بھی اعتراض ہے تو آپ شدت پسند ہیں۔۔۔! pic.twitter.com/ERwya87uNt
— Wasim Raza Naqvi (@wasimrazanaqvi) January 17, 2022
آپ نے اپنی ذندگی میں بہت سے ایسے افراد دیکھے ہوں گے جو شدت پسندانہ ذہنی رجحان رکھتے ہیں ان کے نذدیک ہر وہ بات جو ان کے عقل اور سمجھ میں نا آئے وہ غلط ہوتی ہے آپ اگر ان لوگوں میں قدر مشترک تلاش کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر شدت پسند دو معاملات میں یکساں سوچ کا حامل ہوتا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرایک صارف کی جانب سے دو تصاویر شیئر کی گئیں جس میں دولہا اپنی دلہن کو چوم رہا ہے اور دوسری تصویر میں وہی دولہا اپنی دلہن کے عروسی جوڑے کو جائے نماز کی طرح استعمال کررہا ہے ، صارف نے ان دونوں تصاویر کے ساتھ صارف نے لکھا کہ اگر آپ کو ان دونوں تصاویر میں سے کسی پر بھی اعتراض ہے تو آپ شدت پسند ہیں۔۔۔!
This is one trend I can get behind https://t.co/2pGXExIor5 pic.twitter.com/F4u4WdTMJO
— Azam A. Khan (@AzamAKhan2) January 16, 2022
صارف نے ان تصاویر کی مدد سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کسی کی بھی ظاہری حالت کو اپنی مرضی کے تاثر سے جوڑتے ہوئے فیصلہ نہیں دیا جانا چاہئے ، ہم کسی کی سوچنے سمجھنے کی اپنی حدود ہیں اور ہر انسان اس میں آزاد ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان ایساہی سوچے جیسا آپ سوچ رہے ہیں ۔









