دونوں میں سے کسی ایک تصویر پربھی اعتراض ہے تو آپ شدت پسند ہیں

یہ تاثر عام ہوچکا ہے انتہا پسندی کے بروقت خاتمے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

آج دنیا بھر میں شدت پسندی کے حوالے سے تقاریر تقاریب اور سیمنارز ہونا معمول بن گیا ہے ، شدت پسندی ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس نے سماج میں سچائی تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، پاکستانی معاشرے کو بھی شدت پسندی کا سامنا ہے  ۔ شدت پسندی درحقیقت میں ہے کیا اور یہ کیسے پیدا ہوتی ہے  اس کے اسباب پر جب تک غور نہیں کیا جائے گا ہم اس عفریت سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا میں اس شد ت پسندی  اور انتہا پسندی  کی  اصطلاح  کو دہشت گردی  کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے  اور یہ تاثر عام ہوچکا ہے انتہا پسندی کے بروقت خاتمے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قانون پر عمل داری کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، فواد چوہدری

مفتی منیب الرحمان نے غریدہ فاروقی کا کہا غلط ثابت کردیا

آپ نے اپنی ذندگی میں بہت سے ایسے افراد دیکھے ہوں گے جو شدت پسندانہ ذہنی رجحان رکھتے ہیں ان کے نذدیک ہر وہ بات جو ان کے عقل اور سمجھ میں نا آئے وہ  غلط ہوتی ہے  آپ اگر ان  لوگوں میں قدر مشترک تلاش کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر شدت پسند دو معاملات میں یکساں سوچ کا حامل ہوتا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرایک صارف کی جانب سے دو تصاویر شیئر کی گئیں جس میں  دولہا اپنی دلہن کو چوم رہا ہے اور دوسری تصویر میں وہی دولہا اپنی دلہن کے عروسی جوڑے کو جائے نماز کی طرح استعمال کررہا ہے ، صارف نے ان دونوں تصاویر کے ساتھ  صارف نے لکھا کہ اگر آپ کو ان دونوں تصاویر میں سے کسی پر بھی اعتراض ہے تو آپ شدت پسند ہیں۔۔۔!

صارف نے ان تصاویر کی مدد سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کسی کی بھی ظاہری حالت کو اپنی مرضی کے  تاثر سے جوڑتے ہوئے فیصلہ نہیں دیا جانا چاہئے ، ہم کسی کی سوچنے سمجھنے کی اپنی حدود ہیں اور ہر انسان اس میں آزاد ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان ایساہی سوچے جیسا آپ سوچ رہے ہیں ۔

متعلقہ تحاریر