فواد چوہدری کا میڈیا مالکان سے ورکرز کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان بھر کے صحافیوں کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت سبسڈی والے گھر فراہم کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری میڈیا ورکرز کے حق میں بول پڑے، انہوں نے 35 سے 40 فیصد تک منافع میں اضافے کے باوجود ورکنگ صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر میڈیا ہاؤسز مالکان کی سرزنش کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اتوار کے روز لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں انہوں نے صحافیوں میں صحت کارڈز تقسیم کیے اور اس کے حصول پر انہیں مبارکباد دی۔

یہ بھی پڑھیے

82 سالہ شہری سے ایف بی آر کی زیادتی، معافی صدر عارف علوی نے مانگی

محکمہ موسمیات نے پنجاب میں موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کردی

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں صحافیوں کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت سبسڈی والے گھر فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت ناگزیر ہے تاکہ مسائل کو حل کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کے بعد اسلام آباد کے صحافیوں اور تمام پریس کلبوں سے وابستہ صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ پرنٹ میڈیا کو اب ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ مستقبل میں ڈیجیٹل میڈیا رسمی میڈیا کی جگہ لے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 12 ارب روپے کے اشتہارات رسمی میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں 100 بڑی کمپنیوں نے 929 ارب روپے کا منافع کمایا جب کہ میڈیا ہاؤسز نے 35 سے 40 فیصد منافع کمایا۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ تمام میڈیا مالکان سے درخواست کرتا ہوں کہ ورکنگ جرنلسٹ کا بھی خیال کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کیمرہ مین نے مجھے شکایت کی کہ ہماری تنخواہ 7 سال سے نہیں بڑھی ہے جبکہ سب سے زیادہ مہنگائی کی جو شکایت آتی ہے وہ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے آتی ہے۔

انہوں نے کہا میری ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے سیٹھوں سے جو میڈیا ہاؤسز کے مالکان ہیں کہ اپنے ورکرز کا بھی خیال کریں ان کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

حکومت کا کام ہے کہ مائیکرواکنامک پالیسیز بنانا اور وہ ہم کررہےہیں۔ ملک میں انڈسٹری چل رہی ہے ، ہمارے کسان خوشحال ہوئے ہیں، اگریکلچر میں حکومت نے 1100 ارب روپے انویسٹ کیے ہیں، جس کی وجہ گروتھ سائیکل آیا ہوا ،ہماری معیشت کی گروتھ ریشو 5 فیصد سے اوپر جارہی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ مشکل میں ہمارا تنخواہ دار طبقہ ہے جن کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جارہی ہیں۔ جب تک پرائیویٹ سیکٹر حصہ نہیں ڈالے گا ملک ترقی نہیں کرےگا۔ میڈیا ہاؤسز اینکرز کی تنخواہ تو بڑھا دیتے ہیں جن کی پہلے ہی بہت زیادہ تنخواہیں ہیں۔ مالکان ورکرکنگ جرنلسٹ اور کیمرہ مینز کا خیال کریں اور رپورٹرز کا بھی خیال کریں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے مسائل ہیں اور نجی شعبے کو ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کام کرنے والے صحافیوں کی خوشحالی ضروری ہے، ہمیں اس کے لیے کام کرنا ہوگا۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جیو نیوز نے 2015 میں اپنے ورکرز کی سیلیری میں 20 فیصد کٹوتی تھی جو ابھی تک بحال نہیں کی ہے اور نہ ہی گذشتہ 7 سالوں نے اپنے ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ تمام اسٹاف اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اگر انکریمنٹ نہیں لگانی تو نہ لگائیں مگر جو 20 فیصد کٹوتی کی تھی وہی بحال کردیں تاکہ مہنگائی میں اضافے کا کچھ مقابلہ کرنے کےقابل تو جائیں۔

نیوز 360 کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دنیا نیوز چینل ، اے آر وائی نیوز چینل ، سما نیوز چینل ، 92 نیوز چینل اور ایکسپریس نیوز چینل نے چھ مہینے قبل جو تنخواہوں میں کٹوتی تھی وہ بحال کردی ہے۔

متعلقہ تحاریر