اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ موجودہ گورنر کی مدت مکمل ہونے کے بعد نافذالعمل ہوگا
مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ گورنر رضا باقر کو فائدہ پہنچانے کیلیے ترمیمی ایکٹ لایا گیا ہے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت اسٹیٹ بینک کے سپرد کر دی گئی ہے اور اسٹیٹ بینک کا گورنر آئی ایم ایف کا سابق ملازم ہے۔
انہوں نے شکایت کی تھی کہ موجودہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو نوازنے اور ملک کا پورا مالیاتی نظام آئی ایم ایف کو گروی رکھوانے کے لیے یہ نیا بل منظور کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹیٹ بینک کی برآمد کنندگان کے لیے زرمبادلہ کے قوانین میں ترمیم
آئی ایم ایف کو صاف بتادیا اسٹیٹ بینک مادرپدر آزاد نہیں ہوگا،وزیرخزانہ
شاید شاہد خاقان عباسی نے اس بل کو ٹھیک طریقے سے پڑھنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ بل کی ایک شق میں درج ہے کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ 2021 کا نفاذ موجودہ گورنر کی مدت میعاد میں نہیں ہوگا۔
بل کے متن کے مطابق یہ ترمیمی بل موجودہ گورنر، ڈپٹی گورنر، ڈائریکٹرز کی مدت مکمل ہونے کے بعد تمام تر شرائط و ضوابط کے ساتھ لاگو ہو جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) جس بات کو بنیاد بنا کر ایک مکمل اور جامع پالیسی ساز ترمیمی بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہ بات اس بل میں ہی موجود ہے کہ موجودہ گورنر کی مدت مکمل ہونے کے بعد اس کا نفاذ ہوگا۔









