ایف بی آر نے پراپرٹی کی نئی قیمتوں کا اطلاق 31 جنوری تک روک دیا

پراپرٹی کی ایف بی آر ویلیو کے ازسر نو متعین نہ ہونے سے پراپرٹی ڈیلرز اور کنسلٹنٹس غیر یقینی صورت حال سے دو چار تھے۔

فیڈرل بیوریو آف ریونیو (ایف بی آر) نے پراپرٹی کی موجودہ مالیت 31 جنوری تک مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 31  جنوری تک پراپرٹی کا تمام لین دین موجودہ ویلیو کے حساب سے ہوگا۔

ایف بی آر کی نئی پالیسی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ریئل اسٹیٹ کنسلٹنسٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل احسن ملک نے کہا ہے کہ 31 جنوری سے 2022 تک پراپرٹی کا جتنا بھی لین دین ہوگا، اس پر ٹیکس کی شرح ایف بی آر کی موجودہ ویلیو کے لحاظ سے ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، ادویات کی درآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز

اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ موجودہ گورنر کی مدت مکمل ہونے کے بعد نافذالعمل ہوگا

احسن ملک کے مطابق ایف بی آر کے حکام نے 15 جنوری تک پراپرٹی کی مالیت کا ازسر نو جائزہ لینا تھا۔ ایف بی آر 15 جنوری تک پراپرٹی کی مالیت کا ازسر نو جائزہ مکمل نہیں کرسکے۔

دستاویز کے مطابق اب پراپرٹی کی موجودہ ویلیو 31 جنوری تک برقرار رہے گی اور پراپرٹی کا لین دین موجود ایف بی آر ویلیو کے تحت جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ پراپرٹی کی ایف بی آر ویلیو کے ازسر نو متعین نہ ہونے سے پراپرٹی ڈیلرز اور کنسلٹنٹس غیر یقینی صورت حال سے دو چار تھے۔

دوسری جانب یہ امید کی جارہی تھی کہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین یہ معاملہ 18 جنوری کو تمام اسٹیک ہولڈرز اور ایف بی آر کے ساتھ اٹھائیں گے تاہم طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ان کی ساری طے شدہ میٹنگ کینسل کردی گئی ہیں۔

دریں اثناء ایف بی آر نے نیا آفس میمورنڈم 18 جنوری، 2022 کو جاری کیا ہے، جس میں نظرثانی شدہ قیمتوں کی شرح کی حتمی تاریخ میں 31 جنوری، 2022 تک توسیع کی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر