آسٹریا، کورونا ویکسین نہیں لگوائی تو 600 یورو جرمانہ ہوگا

یورپی ملک کی پارلیمنٹ نے ویکسی نیشن کے حوالے سے سخت اقدامات منظور کرلیے، 14 سال سے زائد عمر کے تمام شہری ویکسین لگوانے کے پابند۔

آسٹریا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے جمعرات کو ایک بل منظور کیا ہے جس کے مطابق یکم فروری سے ملک کے تمام بالغ شہریوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانا لازمی ہوگا۔

اس اقدام کے بعد آسٹریا کورونا ویکسین کے حوالے سے سخت اقدامات اختیار کرنے والا یورپی یونین کا پہلا ملک بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسینیشن کے معاملے پر دوبارہ سختی کرنا ہوگی، وزیر صحت سندھ

لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کورونا کا شکار، آئی سی یو میں داخل

آسٹریا میں ویکسین نہ لگوانے والے افراد کی تعداد زیادہ تھی جس کی وجہ سے وائرس کیسز میں اضافہ ہورہا تھا، حکومت نے پچھلے سال نومبر میں کہا تھا کہ وہ سخت اقدامات کا فیصلہ کر رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت نے لازمی ویکسین لگوانے کیلیے عمر کی حد کم کر کے 18 سے 14 سال کر دی ہے۔

اب یہ بل ایوانِ بالا سے پاس ہونا ضروری ہے جس کے بعد صدر الیکسینڈر وین بیلین اس پر دسخط کریں گے۔

ایک اندازے کے مطابق آسٹریا کی 72 فیصد آبادی کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوا چکی ہے، یہ مغربی یورپ میں کم ترین تعداد ہے۔

دسمبر 2021 میں چوتھے لاک ڈاؤن کے اختتام پر خطرناک ترین اومیکرون ویرینئٹ نے متاثرہ کیسز کی تعداد میں اضافہ کیا لیکن حکومت اب نیا لاک ڈاؤن نہیں لگانا چاہتی۔

15 مارچ کے بعد سے ویکسین نہ لگوانے والے افراد کو 600 یورو جرمانہ کیا جائے گا۔

اٹلی نے 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے کورونا ویکسین کو لازمی قرار دیا ہے جبکہ یونان نے یہی شرط 60 سال سے زائد عمر کے افراد پر نافذ کی ہے۔

متعلقہ تحاریر