پی ڈی ایم نے شیخ رشید کی ایک نہ سنی ، مارچ 23 مارچ کو کرنے کا اعلان
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا ہے فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان مجرم قرار پاچکے ہیں مگر اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانونی سقم تلاش کیے جارہے ہیں۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے پی ڈی ایم 23 مارچ کو لانگ مارچ کرے گی اور ملک کے کونے کونے سے لوگ اسلام آباد کی جانب آئیں گے۔
گذشتہ روز سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف ہم سب کو ملکر ایک بیانیہ بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا میں اپوزیشن کو ڈرا نہیں رہا ۔ آپ نے 23 مارچ کو آنا آئیں ، مگر او آئی سی کے اجلاس اور 23 مارچ کی پریڈ کی وجہ سے اس روز اسلام آباد وزیر داخلہ کے ہاتھ میں نہیں ہوگا بلکہ کسی اور کے پاس اس کا کنٹرول ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ قومی سیاست کا مرکز بن گیا، کئی پارٹیاں لانگ مارچ کے لیے سرگرم
وفاقی وزیر علی زیدی نے آصف زرداری کو پاکستان کا دشمن قرار دے دیا
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی کا خطرہ بھی موجود ہے اور کورونا وائرس کا خطرہ تو پہلے ہی سے موجود ہے۔ سیاست دانوں کو تھریٹ ہے۔ اپوزیشن 23 کی بجائے 27 مارچ کو مارچ کرلے ۔ 23 مارچ کو آپ کو شو میڈیا پر نہیں چلے گا کیونکہ سارے شہر میں جیمرز لگے ہوئے ہوں گے۔
تاہم آج پی ڈی ایم اجلاس کے بعد شیخ رشید کے تھریٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے 23 مارچ کو پریڈ صبح سے دوپہر تک ہوتی ہے ، ہمارا مارچ دوپہر کے بعد اسلام آباد پہنچے گا۔ مہنگائی مارچ اس حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
منی بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ضمنی بجٹ کو مسترد کردیا ہے اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منی بجٹ کو واپس لیا جائے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں مجرم ثابت ہو چکے ہیں۔ یہ پورا ٹبر ، پوری پارٹی کرپٹ ہے، اس کی تخلیق کرپشن سے ہوئی ہے۔ انہوں نے فارن فنڈنگ کیس میں 22 اکاؤنٹس چھپائے۔ ایک شخص کو تنخواہ چھپانے پر نااہل کیا گیا اور ایک شخص کو 22 اکاؤنٹس چھپانے پر قانونی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے سب کا متحدہ ہونا بہت ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا آج کل ملک میں ایک خلائی تجویز زیرگردش ہے ۔ پارلیمانی طرز حکومت کا خاتمہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنے کے مترادف ہوگا۔ پارلیمانی طرز حکومت کا خاتمہ ایک سازش لگتی ہے۔ صدارتی نظام سے یہ ملک ٹوٹا تھا یہ نظام ہمیں قبول نہیں۔
پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک سے متعلق جو بل پارلیمنٹ میں ہے اسے مسترد کرتے ہیں، اسٹیٹ بینک کو مالیاتی اداروں کا غلام بنایا جارہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین غیر آئینی ہے ، پی ڈی ایم پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔
سانحہ مری پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔ ہم ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آئندہ بھی لڑتے رہیں گے۔









