غلطی سے سرحد عبور کرنے والا 14 سالہ پاکستانی تاحال بھارت میں قید

نویں جماعت کے طالب علم 14 سالہ عصمد دو ماہ گذرجانے کےباوجود واپس نہیں آسکا

غلطی سے سرحد عبورکر کےبھارتی زیر انتظام کشمیر پہنچ جانے والا پاکستانی بچہ دوماہ بعد بھی رہا نہیں ہوسکا،  بچے کے والدین نے بھارت اور پاکستان کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے نواسے کی جلد واپسی ممکن بنائی جائے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پالتو کبوتر کی تلاشی میں غلطی سے سرحد عبور کرکے مقبوضہ کشمیر پہنچ جانے والا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے سرحدی گاؤں تیتری نوٹ کا رہائشی نویں جماعت کے طالب علم 14 سالہ عصمد دو ماہ گذرجانے کےباوجود واپس نہیں آسکا ، والدین نے بھارتی وزیراعظم  سے رہائی کی اپیل کردی۔

یہ بھی پڑھیے

پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی فائرنگ، 2 فوجی جوان شہید

سلمان خان کا "بجرنگی بھائی جان ٹو” بنانے کا اعلان  

عصمد کے دادا نے بھارتی اخبار دی پرنٹ کو انٹر ویو دیتے ہوئے بتایا کہ عصمد نے گھر پر پرندے پال رکھے ہیں اور اس دن وہ اپنے کبوتروں کو تلاش کرتے ہوئے غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرکے بھارتی کشمیر کی طرف چلا گیا وہ صرف ایک چھوٹا بچہ’ ہے جس سے غلطی ہوئی ہے۔

بھارتی اخبار کے مطابق ضلع پونچھ میں بھارتی فوج نےعصمد کو اپنی تحویل میں لیا اور بعد ازاں جموں کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعدازاں پولیس نے ‘ایگریس اور انٹرنل موومنٹ کنٹرول آرڈیننس’ کی خلاف ورزی کے عصمد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جس میں کسی جرم کا زکرنہیں ہے بس وہ غلطی سے سرحد عبور کرگیا ۔

عصمد کے دادا کاکہنا تھا کہ  ہمارے بچے کے خلاف درج ایف آئی آر میں کسی قسم کے جرم کا زکر نہیں کیا گیا ہے ہمارا کسی سیاسی گروہ یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے انسانیت کے جذبے سے ہندوستان کے وزیر اعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ بچے کو ہمارے پاس واپس بھیج  دیا جائے وہ محض 14 سال کا معصوم بچہ ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ طالب علم کی گرفتاری کا معاملہ بھارتی حکام کے سامنے اٹھایا ہے جس کی واپسی کی کوششیں جاری ہیں امید ہے کہ جلد عصمد واپس اپنے خاندان کے ساتھ مل جائے گا ۔

متعلقہ تحاریر