گانے کی شوٹنگ تعلیم سے زیادہ ضروری، پشاور یونیورسٹی بند کردی گئی
انتظامیہ نے مشہور گلوکارہ گل پانڑہ کے گانے کی شوٹنگ کے لیے یونیورسٹی میں 14 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔
20 ہزار طلباء و طالبات پر مشتمل پشاور یونیورسٹی کو گلوکارہ گل پانڑہ کی شوٹنگ کے لیے بند کردیا گیا ، سماجی حلقوں کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پشتو کی مشہور گلوکارہ گل پانڑہ کی شوٹنگ کیلئے پشاور یونیورسٹی کو بند کرنے کے خالاف انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اپرچترال: جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان
بی آر ٹی پشاور ایشیا کی 3 بہترین ٹرانسپورٹ سروسز میں شامل
ویلنٹائن ڈے پر سوشل میڈیا کی مختلف ہینڈلز پر گلوکارہ گل پانڑہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ شوٹ کرتے دکھائی دے رہی ہیں.
یاد رہے پشاور یونیورسٹی نے 11 فروری کو ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں یوم کشمیر پر تقریب کے انعقاد کی وجہ سے 14 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائیرل ہوئی تو سوشل میڈیا صارفین نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض ایک گلوکارہ کی شوٹنگ کیلئے 20 ہزار سے زائد طلباء و طالبات پر مشتمل یونیورسٹی کو بند کہاں کا انصاف ہے۔
اس حوالے سے پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی تنظیم نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یونیورسٹی کو گلوکارہ کی شوٹنگ کیلے بند کیا گیا تھا.
اس حوالے سے پشاور یونیورسٹی کے ترجمان نعمان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے ساتھ غلط کیپیشن لگا کر یونیورسٹی انتظامیہ کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کسی گانے کی ریکارڈنگ نہں بلکہ پاکستان سپر لیگ کے ایک شوٹ کے لیے لاہور کے ایک نجی پروڈکشن کمپنی نے ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت لی تھی۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پی ایس ایل پاکستان کا قومی ایونٹ ہے اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کو درخواست ملنے کے بعد ان کو یونیورسٹی میں شوٹنگ کی اجازت دی گئی تھی۔









