وفاقی حکومت کے حالیہ تمام آرڈیننسز اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

وفاقی حکومت کے حالیہ تمام آرڈیننسز اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیے گئے۔پی ایف یو جے کےبعد  مسلم لیگ ن اور  پیپلزپارٹی  نے بھی پیکا ایکٹ میں ترامیم  کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا جبکہ سابق چیئرمین یونین کونسل اسلام آباد سردار مہتاب نے الیکشن ترمیم آرڈیننس چیلنج کردیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے ترجمان  مریم اورنگزیب نے پیکا قانون کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔درخواست میں سیکرٹری قانون، سیکرٹری صدر پاکستان ہائوس، سیکرٹری آئی ٹی اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن ایکٹ اور پاکستان الیکٹرانک ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری

حکومتی حربہ ناکام ، عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا

مسلم لیگ ن نے درخواست میں موقف اپنا یا ہے کہ پیکا ترمیمی آڑڈیننس اسلامی جمہوریہ  پاکستان کے آئین کی اسکیم کے خلاف ہے اور  بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پیکا 2016 کا سیکشن 37(1) مبہم، غلط، اوور بورڈ، ضرورت سے زیادہ تفویض اور غیر آئینی ہے،پیکا 2016 کے سیکشن 37(1) خاص طور پر پاکستان کی سالمیت، سلامتی اور دفاع کی تعریف ہے،عدالت سیکشن 37(1) اور (iv)  پر ایسا ریلیف دے جومناسب سمجھے۔ مریم اورنگزیب  نےعدالت کے باہر  میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ   پیکا ایکٹ میں ترامیم بنیادی انسانی حقوق،آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کے حق کے مخالف ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی پیکا قانون کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔درخواست میں سیکریٹری قانون، سیکریٹری صدر پاکستان ہاؤس، سیکریٹری آئی ٹی اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔ فرحت اللہ بابر کی درخواست چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی ۔

عدالت نے سیکریٹری قانون، سیکریٹری صدر پاکستان ہاؤس، سیکریٹری آئی ٹی اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سماعت آج دوبارہ ہوگی۔

ادھر الیکشن ترمیم آرڈیننس 2022 بھی  اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔سابق چیئرمین یونین کونسل اسلام آباد سردار مہتاب نےاپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ  حکومت نے غیر آئینی طریقے سے آرڈیننس کے ذریعے الیکشن قانون تبدیل کیا،پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی بدنیتی ہے،درخواست میں صدر پاکستان، وزارت قانون اور اطلاعات و نشریات کو فریق بنایا گیا ہے۔جسٹس عامر فاروق کی طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے کاز لسٹ منسوخ کردی گئی  اور سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ تحاریر