اسلام آباد کے شہریوں کے خوشخبری، بجلی اور گیس کے کنکشن سے پابندی ختم

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز کا کہنا ہے تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے شہریوں کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کا دیرینہ مطالبہ منظور کرتے ہوئےحکومت نے بجلی اور گیس کے کنکشن پر برسوں سے عائد پابندی ختم کردی اور اس حوالے سے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرا دی۔

اسلام آ باد کی غیر منصوبہ بندی سے بننے والی سکیموں اور دیہی آ بادی میں بجلی اور گیس کے کنکشن پر  19مئی2004میں پابندی عائد کی گئی تھی۔

وفاقی کابینہ نے رواں برس جنوری 2022 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بعد میں گیس اور بجلی کے کنکشن پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی کے دفاتر 7 سے 11 مارچ تک جزوی طور پر بند رہیں گے

ایمان مزاری اور محسن داوڑ کیخلاف غداری کے مقدمے کی خبر جھوٹی نکلی

کابینہ کو اس معاملے پر سمری پیش کی گئی تھی جس میں بتایاگیا تھاکہ کابینہ نے 2004میں فیصلہ کیا تھا کہ اسلام آ باد کے زون ٹو ‘ تھری اور فور میں غیر منظم آ بادی روکنے کیلئے  قواعد و ضوابط پر عمل درآ مد کو یقینی بنا یا جائے اورسی ڈی اے کے این او سی کے بغیر گیس ‘بجلی اور ٹیلیفون کے کنکشن نہ دیئے جائیں۔

وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں وزارت داخلہ نے چیئر مین سی ڈی اے کو لکھے گئے خط میں ہدایت کی کہ کابینہ کے فیصلہ پر عمل درآ مد کے اقدامات کئے جا ئیں اور اپنی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قواعد وضوابط کے سیکشن 49C کے تحت کوئی فرد یا ادارہ سی ڈی اے کی منظوری لئے بغیر اسلام آباد میں سکیم ڈویلپ نہیں کر سکتا اور ایسی تعمیرات کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ اس دوران اسلام آباد میں بہت سی ہائوسنگ سکیموں نے این او سی لینے کے بعد ڈیفالٹ کر دیا ۔ کئی اسکیمیں سی ڈی اے سے منظوری لئے بغیر بن گئیں ۔ ان سکیموں کے اندر بننے والے شہریوں کے مکان بجلی اور گیس کے کنکشن سے محروم ہیں ۔

سمری میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بجلی کے کنکشن کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔ نیپرا رولز کے تحت بھی بجلی ہر صارف کو بلا امتیاز دی جائے ، اوگر اریگولیشن بھی یہی ہے۔

یہ معاملہ کابینہ کے 25 فروری 2020 کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ مسئلہ کے حل کیلئے سمری پیش کی جائے۔

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت کئی اجلاس ہوئے جس میں اسلام آباد کے ممبران قومی اسمبلی نے شرکت کی۔جس کے بعد کابینہ کو سفارش کی گئی کہ کابینہ کے 19 مئی 2004 کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے اور کنکشن پر عائد پابندی ہٹائی جائے۔

اسلام آباد کے شہریوں کو آئین کے آرٹیکل 9 اور نیپرا اور اوگرا کے رولز کے تحت بجلی اور گیس کے کنکشن بلا امتیاز دیئے جائیں ۔ سی ڈی اے بلڈنگ بائی لاز پر عمل در آمد کرائے لیکن اسے یوٹیلٹی کنکشن سے منسلک نہ کرے ۔ کابینہ نے یہ سفارشات منظور کر لیں۔

 وزارت داخلہ نے یکم فروری کو چیر مین سی ڈی اے کو لکھے گئے خط میں کابینہ کے فیصلہ پر عمل در آمد کیلئے اقدامات کی ہدایت کی تھی جس کی روشنی میں اسلام آباد میں بجلی کنکشن پر عائد پابندی ختم اور ایمنسٹی سکیم متعارف کرا دی گئی۔ اس حوالے سے نیپرا نے بھی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔

نیپرا کے ہدایت نامہ کے مطابق اسلام آباد کے کسی بھی علاقہ میں بجلی کنکشن کیلئے سی ڈی اے کا این او سی یا ایل او پی درکار نہیں ہو گا۔ تاہم سی ڈی اے یوٹیلٹی کنکشنز سے منسلک کئے بغیر اپنے تعمیراتی قواعد و ضوابط لاگو کرے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ، رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز کا اس حوالے سے بیان میں کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔

راجہ خرم نواز کا کہنا تھا کہ اب عوام کو بجلی کی سہولت بھی بروقت میسر آئے آئیسکو  اسلام آباد میں گھریلو‘ کمرشل اور پلاٹنگ ایریا میں بجلی کے کنکشن اور دیگر نیٹ ورک فراہم کرنے کے اقدامات تیز کرے تاکہ عوام کو سہولت حاصل ہوگی۔خرم نواز کا کہنا تھاکہ اس ضمن میں نیپرا نے آئیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے نام خط میں فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

متعلقہ تحاریر