سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم
عدالت عظمیٰ کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ زبانی حکم کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہوتی ہے، یہ کوئی بادشاہت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مونال ریسٹورنٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا غیردستخط شدہ مختصر حکم نامہ معطل کردیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کے خلاف درخوست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی دستیاب ہے نہ تفصیلی فیصلے کی کاپی۔
یہ بھی پڑھیے
باپ کے ہاتھوں 7 دن کی بیٹی کا قتل، عورت مارچ اس لیے ضروری ہے
خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مساوی مواقعوں کی فراہمی ناگزیر ہے، اسد قیصر
وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ انٹرا کورٹ دو مرتبہ مقرر ہوئی لیکن سماعت سے قبل ہی کیس منسوخ کردیا گیا۔
اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن ریمارکس دیئے کہ تحریری عدالتی حکم سے پہلے مونال ریسٹورنٹ کس سیل کیسے کیا گیا؟۔
ان کی جانب سے یہ بھی ریمارکس دیئے گئے کہ کیس میں وائلڈ لائف تو فریق ہی نہیں تو پھر ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کے لیے اتنی پھرتی کیوں دکھائی گئی ۔ بتایا مارگلا ہل پر آج تک کتنے ریسٹورنٹ سیل کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وائلڈ لائف بورڈ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مونال ریسٹورنٹ کے قریب مزید دو ریسٹورنٹس ہیں ، ان کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کی سرزنش کی گئی ۔ بار بار مداخلت پر انہیں روسٹرم سے بھی ہٹایا گیا۔
جسٹس مظاہر نقوی کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا آپ کو کہا تھا کہ تشریف رکھیں مگر آپ کو بات سمجھ نہیں آتی ہے ۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا اپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ اصولی پر مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کو کوئی حکم نامہ موجود ہی نہیں ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ زبانی حکم کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ کیا یہ بادشاہت ہے کہ شہنشاہ نے فرمان جاری کیا اور دستخط سے پہلے ہی اس پر عمل ہو گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔









