کراچی نیب کی غیرفعال عدالتیں سرکاری خزانے پر بوجھ

ڈان نیوز کے مطابق حکومت کو ججوں کی تنخواہوں، عملے اور یوٹیلیٹی کے دیگر اخراجات وغیرہ کی مد میں 10 ملین روپے سے زائد کے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے خلاف کامیاب مہم کے بعد مقدمات میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر کراچی میں چھ احتساب عدالتیں قائم کی گئی تھیں جن میں پانچ احتساب عدالتیں ججز کی تعیناتی نہ ہونے کے سبب بند پڑی ہیں۔ ان بند عدالتوں کے اخراجات قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔

صوبائی دارالحکومت کراچی میں اس سے قبل نیب کی چار عدالتیں کام کررہی تھی تاہم مقدمات کی زیادتی کی وجہ سے ان کی تعداد بڑھائی گئی تھی۔

ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے چھ ماہ قبل کراچی میں چھ اضافی عدالتیں قائم کی تھیں تاکہ موجودہ چار عدالتوں کے ججوں پر کام کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی

پیمرا وقت پر تنخواہیں نہ دینے والے چینلز کا لائسنس منسوخ کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ

نئی عدالتیں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ احکامات کی روشنی میں قائم کی گئی تھیں، سپریم کورٹ نے ایک ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت کرتے ہوئے احتساب عدالتوں میں مقدمات کی سماعت میں تاخیر کا نوٹس لیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ نئی عدالتیں بنائے تاکہ موجودہ عدالتوں کے ججز پر کام کا بوجھ کم ہو اور بدعنوانی سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے کلفٹن میں میونسپل ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے احاطے میں چھ نئی عدالتیں قائم کی تھیں جو اس سے قبل کراچی سینٹرل جیل کے احاطے میں قائم تھیں۔

ڈان نیوز کے مطابق حکومت کو ججوں کی تنخواہوں، عملے اور یوٹیلیٹی کے دیگر اخراجات وغیرہ کی مد میں 10 ملین روپے سے زائد کے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

"وفاقی حکومت نے وزارت قانون و انصاف کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ کو درخواست دی تھی کہ جوڈیشل افسران کو پریزائیڈنگ افسران کی تقرری کے لیے نامزد کیا جائے تاکہ نئی قائم ہونے والی احتساب عدالتوں میں خالی آسامیوں کو پُر کیا جا سکے۔”

ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا تھا کہ "سندھ ہائی کورٹ نے نئی عدالتوں میں تقرری کے لیے چھ جوڈیشل افسران کو وفاقی وزارت قانون و انصاف کو نامزد کیا تھا، لیکن وزارت نے صرف ایک پریزائیڈنگ افسر کو صرف ایک نئی عدالت (AC-VI) میں تعینات کیا تھا۔

ذرائع نے ڈان نیوز کو مزید بتایا کہ ‘پانچ دیگر عدالتیں پریزائیڈنگ افسران کی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک خالی پڑی ہیں جبکہ دیگر عدالتی عملے کو تعینات کیا جاچکا ہے اور وہ بغیر کوئی کام کیے ہر ماہ تنخواہیں وصول کررہے ہیں’۔

کام کا بوجھ

عدالتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ موجودہ چار عدالتوں میں سے، احتساب عدالت III کی جج ڈاکٹر شیر بانو کریم بھی رواں سال جنوری میں ریٹائر ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے اس وقت صرف تین عدالتیں کام کر رہی ہیں۔

حال ہی میں حکومت نے احتساب عدالت نمبر چار کے جج کو AC-III کا اضافی چارج دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جہاں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی اور ان کے خاندان کے افراد ، پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال اور دیگر کے خلاف ہائی پروفائل کیسز زیر التوا تھے۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کرپشن، بدعنوانی اور بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکہ دینے سے متعلق تقریباً 169 ریفرنسز تینوں عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترامیم کے بعد وفاقی حکومت نے کیسز کی کچھ کیٹیگریز کو نیب کے دائرہ کار سے خارج کر دیا تھا، اس طرح ریفرنسز کی تعداد بڑھنا بند ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے نہ تو کوئی نیا ریفرنس دائر کیا گیا اور نہ ہی نئی عدالتوں میں ججز کی تقرری کی گئی، جو بظاہر قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں ہیں کیونکہ ان عدالتوں کا عملہ تقریباً چھ ماہ سے تنخواہیں وصول کر رہا ہے۔

کیسز کا بیک لاگ

ذرائع کا اندازہ ہے کہ احتساب عدالت I کے پاس 2021 کے آخر تک تقریباً 40 ریفرنسز زیر سماعت تھے ، تاہم ترمیم شدہ قانون کی منظوری کے بعد 190 کے قریب ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔

احتساب عدالت نمبر دو میں تقریباً 48 مقدمات زیر التواء تھے تاہم ترمیم کے بعد 2021 میں تقریباً 40 مشتبہ افراد کو ضمانت دی گئی تھی۔

اسی طرح احتساب عدالت نمبر تین میں 2021 کے آخر تک تقریباً 40 مقدمات زیر سماعت تھے۔

احتساب عدالت نمبر چار میں تقریباً 41 ریفرنسز زیر سماعت تھے جبکہ گزشتہ سال تقریباً 48 مشتبہ افراد کو ضمانت دے دی گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر