نادرا آفس سکھر کا عملہ غائب، عوام رُل گئی
شہریوں کا کہنا ہے نادرا آفس کا عملہ اتنا بے حس ہوگیا ہے کہ انکو دور دراز سے آئیں خواتین اور شرخوار بچوں تک کا احساس نہیں ہے۔
نادرا آفس سکھر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ، دور دراز کے علاقوں سے آئی عوام رُل گئی۔ خالی کرسیاں ، عملہ غائب ہونے سے لمبی لائنیں روز کا معمول بن گئی۔ گھنٹوں گھنٹوں انتظار کے بعد کل آنا آ جانا ، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ نادرا عملہ شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ میں توسیع کروانے کی درخواست فارم کی فیس 400 روپے وصول کرنے لگا۔ عوام نے نادرا آفس سکھر کے عملے کو بھی افسر شاہی کی اعلیٰ مثال قرار دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی شناختی کارڈ بنوانے اور رینیو کروانے سمیت دیگر اسناد کیلئے سکھر و گردنواح کے اضلاع سے آئے عوام نادرا آفس لوکل بورڈ سکھر کے عملے کے نامناسب رویے اور آفسر شاہی کی وجہ سے رل گئی۔
یہ بھی پڑھیے
سیپکو انتظامیہ کی نااہلی، شہر میں لگے بجلی کے پولز خستہ حالی کا شکار
سکھر کی گلیوں اور شاہراہوں پر پھیلے گندگی ڈھیر عوام کے لیے وبال جان
کاؤنٹر عملہ اپنی سیٹ سے غائب ہونے سے دور دراز کے علاقوں سے آئی عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز کے علاقوں سے آئی عوام کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے۔
عملے کے غائب ہونے سے کاؤنٹر پر لمبی قطاریں لگنا روز کا معمول بن گیا۔ نادرا عملے کہ نامناسب رویے کی وجہ سے عوام کو ایک درخواست فارم جمع کروانے کیلئے نادرا آفس کے دن میں کئی کئی بار چکر لگانے پڑ جاتے ہیں۔
شہر کے وسط میں قائم نادرا آفس لوکل بورڈ پر عوام کیلئے انتظار گاہ کا بھی کوئی معقول بندوبست بھی نہیں کیا گیا ہے، جبکہ پہلے سے جاری شدہ شناختی کارڈ کی تاریخ میں توسیع کروانے کے لئے بھی 17 سے 18 گریٹ کے افسر سے تصدیق کروانے کی شرط بھی سمجھ سے بالاتر ہونے کے مترادف ہے۔
جب ایک شناختی کارڈ پہلے ان تمام مراحل سے گزر چکا ہے تو اس کو دوبارہ تصدیق کرانے کی کیا منطق ہے اس سوال کا جواب وہاں پر بیٹھے ہوئے عملے کے پاس بھی نہیں ہے۔
دوسری جانب جب کاؤنٹر عملے کہ سیٹوں سے غائب کے بارے میں دریافت کیا گیا تو وہاں پر موجود افسران نے اپنی نااہلی کو چھپاتے ہوئے کہا کہ یہ موصوف نماز پڑھنے گئے ہیں۔ ویسے تو نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ان کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وہ موصوف نماز پر گئے کیا انکی جگہ پر کوئی دوسرا انکی ڈیوٹی نہیں دے سکتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے نادرا آفس کا عملہ اتنا بے حس ہوگیا ہے کہ انکو دور دراز سے آئیں خواتین اور شرخوار بچوں تک کا احساس نہیں ہے۔
عوام نے متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں اور ہمیں انتظار کی اذیت اور نامناسب رویے کے افسران سے ہماری جان چھڑائیں اور نااہل عملے کے خلاف نوٹس لیکر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔









