اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کو پیسے بنانے کی مشین قرار دے دیا
پی بی اے کے وکیل کا کہنا ہے 106 چینلز سے زیادہ پیمرا ریگولیٹ نہیں کر سکتا، اس وقت 150 چینلز پیمرا چلا رہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پیمرا صرف پیسے کمانے کے لئے لائسنس جاری کر رہا ہے، پیمرا کو عوام کے بنیادی حقوق کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) کی استعداد سے زیادہ لائسنس جاری کرنے کے خلاف پی بی اے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
سیپکو انتظامیہ کی نااہلی، شہر میں لگے بجلی کے پولز خستہ حالی کا شکار
کراچی نیب کی غیرفعال عدالتیں سرکاری خزانے پر بوجھ
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کی۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وکیل فیصل صدیقی نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا پہلے ہی 109 سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کو لائسنس دے چکا ہے۔ لینڈنگ رائٹس والے چینلز ملا کر تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچ جاتی ہے، اینالاگ سسٹم میں اتنے ٹی وی چینلز کو دکھانے کی گنجائش ہی نہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ پیمرا لائسنس جاری کرتے ہوئے آرٹیکل 19 کو کیسے دیکھتا ہے۔ لائسنس لینے والے کا کوئی مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں، کیا یہ دیکھا جاتا ہے؟،مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہو گا تو ہی اظہار رائے کی آزادی ہو گی، چیف جسٹس نے کہا کہ پوری دنیا میں مفادات کے ٹکراؤ کو دیکھا جاتا ہے یہ تو یہاں کوئی نہیں پوچھتا، پیمرا جو 3 سو لائسنس دے رہا ہے یہ کس کو دے رہا ہے کس بنیاد پر دے رہا ہے؟۔
پی بی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ چینلز کا پیمرا خیال نہیں رکھ رہا تو نئے چینلز کے حقوق کا کیا ہو گا، اس عدالت کو پیمرا نے گمراہ کیا ہے،نئے چینلز آنے کے بعد پیمرا ریگولیٹ نہیں کر پائے گا۔
عدالت عظمیٰ نے دریافت کیا کہ نئے چینلز آنے کے بعد آرٹیکل 18 کو پیمرا نے کیسے دیکھے گی۔؟
درخواست گزار پی بی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ 106 چینلز سے زیادہ پیمرا ریگولیٹ نہیں کر سکتا، اس وقت150 چینلز پیمرا چلا رہا ہے، فیصل صدیقی نے بھارتی کیبل آپریٹر اور اتھارٹی کے علاؤہ سوئزرلینڈ میں ٹی وی چینلز اتھارٹی کا بھی حوالہ دیا۔
اس موقع پر پیمرا کے وکیل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پی بی اے کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
عدالت نے پیمرا سے دریافت کیا کہ کیا نئے چینلز کی گنجائش ہے یا نہیں ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پیمرا صرف پیسے کمانے کے لئے لائسنس جاری کر رہا ہے، پیمرا کو عوام کے بنیادی حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے، پیمرا نے پبلک کا پیسہ استعمال کیا ہے،
۔بتایا جائے کہ پیمرا نے نئے چینلز کی گنجائش بڑائی ہے یا نہیں۔انہیں ڈیجٹلائزیشن سے کسی نے نہیں روکا ہے۔
عدالت نے سماعت 4 اپریل تک کے لئے ملتوی کر دی۔









