فلسطین کے حوالے سے جیجی حدید کے بیان کو حذف کرنے پر ‘ووگ’ میگزین پر تنقید
میگزین امریکی سپر ماڈل جی جی حدید سے متعلق کی گئی اپنی پوسٹ سے فلسطین کا لفظ حذف کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

عالمی شہرت یافہ فیشن میگزین ’ووگ‘ کو فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل جیجی حدید سے متعلق کی گئی اپنی پوسٹ سے فلسطین کا لفظ حذف کرنے پر شدید تنقید کا سامنا
پوری دنیا خاص طورپر یورپ روس اور یوکرین کےد رمیان تنازع پر کافی رنجیدہ دکھائی دے رہی ہیں وہیں کئی عشروں سے صہیونی جارحیت کا شکار فلسطین کے حوالے سے مغرب کا دوہرے معیار تو سب کے سامنے ہی تھا لیکن اب عالمی شہرت یافہ فیشن میگزین ’ووگ‘ نے بھی مقبوضہ فلسطین کے حوالے سے اپنے دوہرے معیار کا اظہار کردیا ہے ۔ فیشن میگزین امریکی سپر ماڈل جی جی حدید سے متعلق کی گئی اپنی پوسٹ سے فلسطین کا لفظ حذف کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جی جی حدید کا اپنی آمدن یوکرینی اور فلسطینی عوام کیلیے عطیہ کرنے کا اعلان
معروف امریکی سپر ماڈل بیلا حدید بھی حجاب کے حق میں بول پڑیں
View this post on Instagram
فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل جیجی حدیدنے سماجی رابطوں کی ویڈیوز اینڈ فوٹوز شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے روس اور یوکرین حالیہ جنگ کے حوالے سے ایک پوسٹ کی جس میں انھوں نے لکھا کہ ’تاریخ میں ایک خوفناک وقت میں بھی ہمیں کپڑوں کے نئے ڈیزائن دکھانے کے لیے فیشن واک کرنی ہوتی ہے اور بدقسمتی سے ہمیں اپنے شیڈول پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا لیکن میں چاہتی ہوں کہ میں کسی مقصد کے لیے فیشن واک کروں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’میں سنہ 2022 کے اواخر کے فیشن شوز سے حاصل ہونے والی رقم یوکرین میں جنگ زدہ افراد اور فلسطین میں بھی ایسے ہی صورتحال کا سامنے کرنے والوں کی مدد کے لیے استعمال کرتی رہوں گی۔ ہماری آنکھیں اور دل تمام انسانی ناانصافیوں کے بارے میں کھلے رہنے چاہییں۔
فیشن میگزین نے جیجی حدید کی جانب سے فلسطین اور یوکرین کے جنگ سے نبردآزما افرادکےلئے عطیہ کردہ جھمکوں کی خبر تو شائع کی لیکن اس میں سے فلسطین کے نام کو حذف کردیا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے میگزین پر سخت تنقید کی ۔
انسٹاگرام پر ان کی اس پوسٹ کے نیچے صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے میگزین پر دو مختلف تنازعات کا موازنہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ پوسٹ انتہائی فضول ہے۔ ووگ اسرائیل مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بہت بُری صحافت ہے۔‘ تاہم ایک صارف نے لکھا کہ ’ناانصافی کہیں بھی ہو وہ پوری دنیا میں ناانصافی کے برابر ہے۔ بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ کوئی مدد کر رہا ہے۔‘ تاہم اس سلسلے میں میگزین پر تنقید اتنی زیادہ ہوئی کہ بظاہر دباؤ میں آ کر انھوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ہی تبدیلی کر ڈالی اور اس میں جیجی حدید کی جانب سے فلسطین کو دی گئی امداد سے متعلق بیان کو حذف کر دیا۔









