عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے پاکستان کو نقصان ہوگا
واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان کے خلاف قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔
انڈین آرمی کے سابق آفیسر اور دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے انڈین دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے لکھا ہے کہ "5 اگست 2019 کے بعد عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو دوسرے مرحلے پر دستخط ہوئے۔”
یہ بھی پڑھیے
شہزاد اکبر سے متعلق جھوٹی خبر پر چینل 24 کی معذرت
روس میں فیس بک واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر پابندی، میٹا کو 2بلین ڈالر کا نقصان
وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مزید تعریف کرتے ہوئے پروین ساہنی کا کہنا ہے کہ "چین اور روس کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔ امن کے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ مکمل عزم کے ساتھ ہندوستان کو سنبھالا اور چند ناموں کے لیے این ایس پی جاری کی گئی۔”
Pak foreign policy done well under Imran Khan post 5Aug 2019. BRI second phase signed; ties with China, Russia good; PEACE cables progressing; handled India with maturity & NSP released to name few.
Not my business – but, it will be Pak loss if he losses no-confidence vote!— Pravin Sawhney (@PravinSawhney) March 12, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "یہ میرا کام نہیں ، لیکن ، اگر وہ (عمران خان) تحریک عدم اعتماد میں ہار گئے تو یہ پاکستان کا نقصان ہوگا!۔”
پروین ساہنی کے خدشات کو رد کرتے ہوئے عقیل یوسفزئی نے لکھا ہے کہ "ان شاء اللہ ایسا نہیں ہوگا۔” مطلب ان کا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی۔
ایک اور ٹوئٹر صاف محمد اقبال آغا نے پروین ساہنی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "کچھ نہیں ہوگا ،،، ان شاء اللہ۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم ہاکستان عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے رواں ماہ 8 مارچ کو قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی۔
جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کے 86 اراکین قومی اسمبلی کے دستخط موجود تھے۔









