افغانستان کے 95 فیصد افراد کو بھوک اور غذائی قلت کا سامنا ہے: اقوام متحدہ

بھوک میں تیزی سے اضافے نے افغان خاندانوں کو خطرناک اقدامات کرنے پر مجبور کردیا ہے،جو انتہائی تباہ کن او رسنگین ہیں

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان تاریخ کے بدترین دور سے گزررہا ہے ، ملک میں بھوک اور افلاس  اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے ،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد گذشتہ سال جولائی2021 کے ایک کروڑ 40 لاکھ کے مقابلے 2 کروڑ 30 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

” افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب خصوصی نمائندے برائے افغانستان رمیز الکبروف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں افغانستان میں انسانی بحران پر عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  افغانستان تاریخ کے بدترین دور میں ہے ، افغانستان کے 95 فیصد افراد بھوک کا سامنا کررہے ہیں ۔بھوک اور افلاس میں تیزی سے اضافے نے افغان خاندانوں کو خطرناک اقدامات کرنے پر مجبور کردیا ہے،جو انتہائی تباہ کن او رسنگین ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان پہلے سے محفوظ لیکن معاشی تباہی سے دوچارہے، امریکی میڈیا

امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کردیئے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے بدھ کو اپنے دورہ افغانستان میں کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے کی وجہ سے کہیں دنیا افغانستان کو بھول نہ جائے اور یہ کہ اس کی انسانی امداد نظر انداز کرنا خطرناک ہو گا۔اے ایف پی کی جاری کردہ ویڈیو میں گرانڈی کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام دنیا کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے۔’میری تنظیم کی بھی توجہ وہیں ہے۔ آج جب ہم یہاں بات کر رہے ہیں تو 30 لاکھ پناہ گزین یوکرین کی سرحد پار کر چکے ہیں۔’اس لیے سمجھا جا سکتا ہے کہ دلچسپی زیادہ ہے۔ وہاں بہت خطرناک جنگ بھی ہے۔

اپنی رپورٹ  میں انھوں نے ایک اسپتال سے خوراک کی کمی کا شکار بچوں کی  تصاویر بھی شیئر کی ہیں جس کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ ، یہاں ایسے بچے زیر علاج ہیں جن کا وزن ایک سال کی عمر میں ترقی پزیر ملک کے 6 ماہ کے بچے کے وزن سے بھی کم ہے۔ اقوام متحدہ انہوں نے کہا کہ ان کچھ ایسے بچے بھی شامل ہیں ’جو اتنے کمزور ہیں کہ وہ حرکت بھی نہیں سکتے‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل  اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے افغان دارالحکومت کابل کاایک روزہ دورہ کیا تھا جس کے بعد انھوں نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں لڑائی سے ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں انسانی اور معاشی مسائل کے باعث زیادہ جانیں جانے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہر پانچ میں سے 3 افراد شدید بھوک کا شکار ہے۔ 20 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور 35 لاکھ سے زیادہ لوگ اندرون ملک بے گھر ہیں۔

متعلقہ تحاریر