نئے پاکستان کا ہدف، عمران خان کی اہم کامیابیاں، ناکامی کے اسباب

عمران خان کو امریکا کو”ایبسولوٹلی ناٹ“ کہنے اور  یورپی یونین سےیہ پوچھنے پر یاد کیا جائے گا کہ کیا ہم تمہارے غلام ہیں؟ سینئر تجزیہ ادریس خواجہ کا مضمون

تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت بظاہر خطرے میں  نظر آرہی ہے، قلیل اکثریت پر کھڑی حکومت کے کئی ارکان بغاوت پر اتر آئے ہیں جبکہ اتحادیوں کے تیور بھی بدلے بدلے سے معلوم ہوتے ہیں۔

ایسے میں معاشی تجزیہ کارادریس خواجہ نے روزنامہ ڈان میں وزیراعظم عمران خان کی 4 سالہ کارکردگی کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی وجوہات کی نشاندہی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

27 مارچ کو قوم میرا ساتھ دے کر بتائے کہ ہم بدی نہیں نیکی کے ساتھ ہیں، وزیراعظم

وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان میں جلد الیکشن ہونے کا اشارہ دے دیا

ادریس خواجہ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ عمران خان اب تک ’نئے پاکستان‘ کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیا ان کی ناکامی ان کی قوت ارادی یا صلاحیت کی کمی کا نتیجہ ہے ؟ یا نئے پاکستان میں شکست خوردہ اپوزیشن کی  چالیں اور  حکومت کو ملنے  والی قلیل  اکثریت اس کی وجہ ہے؟ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اہداف عمران خان  نے اپنے لیے مقرر  کیے تھے وہ پانچ سال کی ایک مدت میں پورے نہیں کیے جاسکتے تھے؟  اگر کرونا سے متاثرہ تین سالوں کوالگ کر دیں تو بھی  لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ عمران خان نے ملک کو نئے پاکستان کی راہ پر ڈالنے کے لیے کیا کچھ کیا۔

ادریس خواجہ کے مطابق  یہ سچ ہے کہ عمران خان  احتساب  کے حوالے سےکارکردگی نہیں دکھا سکے لیکن انہوں نے کم از کم جہانگیر ترین، علیم خان اور زلفی بخاری جیسے قریبی ساتھیوں کو دیوار سے لگادیا ۔ شاید سابق ​دودوست  ہی  وزیراعظم کو آج درپیش چیلنج کی جزوی وجہ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے پاکستان کے حصول کا راستہ کس قدر دشوار ہے۔جہانگیر ترین اور علیم خان تو تحریک انصاف کے رہنما تھے ۔ اس مصیبت کا تصور کریں جو شکست خوردہ غیروں نے  پیدا کی ہے یا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ، چاہے وہ اپوزیشن ہو، بیوروکریسی ہو یا اسٹیبلشمنٹ۔

صاحب مضمون کے مطابق  یہ سفر کبھی بھی آسان نہیں ہونا تھا، خاص طور پر ایک ایسے وزیر اعظم کے لیے جو ایماندار ہے (جیسا کہ اکثریت مانتی ہے)۔عمران خان میں مقصد کو پانے کی خواہش شاید صلاحیت سے زیادہ موجود ہے  لیکن یاد رکھیں کہ وہ  شوکت خانم، نمل اور ورلڈ کپ  جیسے کارہائے نمایاں انجام دے چکے ہیں  اور یہ سب  وژن اور انتظامی صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ جہاں تک صلاحیت کا تعلق ہے تو  یہ نہ بھولیں کہ 2014 کا نواز شریف 1990 کے نواز شریف سے مختلف تھا۔ شاید لکھاری یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وقت اور تجربات انسان کو بہت کچھ سکھا دیتے ہیں ۔

ادریس خواجہ نے سوال کیا ہے کہ کیاایمانداری اور سوچ کو صلاحیت پر فوقیت دینی چاہیے۔ اگرنہیں؟ پھر ذرا غور کریں کیا ہمیں قومی خزانے کی چابیاں کسی ایسے فرد کے حوالے کر دینی چاہیے جو صلاحیت تو رکھتا ہے  لیکن اس پر عوامی پیسہ چوری کرنے کا الزام ہے؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ ایک ایسے  غیر معمولی قابل شخص کی خدمات حاصل کرنے کے مترادف ہوگا جس نے اپنی پچھلی ملازمت میں مبینہ طور پر رقم اور زیورات  چوری کیے ہوں۔ کیا ہم ایسے ملازم کی خدمات حاصل کرنے  کیلیے اسکی ساکھ پر بھروسہ کریں گے یا بے ایمانی کے ایسے ثبوتوں کا انتظار کریں گے جو عدالت میں ثابت ہوجائیں؟

صاحب مضمون کے مطابق جو لوگ تبدیلی نہیں چاہتے وہ انفرادی طور پر کوئی خطرہ نہیں تھے لیکن جب ان کے لیے حالات مشکل ہونے لگے تو وہ ’ایک صفحے‘ پر اکٹھے ہو گئے، اور ’نئے پاکستان‘ کے مقصد کو ناکام بنانے کے لیے کافی مضبوط ثابت ہوئے۔لاکھوں ایسے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بدعنوانی کے معمولی نتائج ہوتے ہیں وزیر اعظم کے انسداد بدعنوانی کے بیانئے پر معترض ہیں لیکن پھر بھی وہ یہ سوچنے پر ضرورمائل ہوں گے کہ وفاداریوں کی حالیہ تبدیلی میں پیسے نے کچھ نہ کچھ کردار ادا کیا ہے۔

ادریس خواجہ لکھتے ہیں کہ  سیاسی کھیل میں اکثر پیسہ ادھر سے اُدھر ہوتا ہے۔ یہ تصور کرنا بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ ایسا پیسہ خود بھی جائز طریقے سے نہیں کمایا گیا ہوگا۔ اس کے  کیا مضمرات ہو ہونگے؟ یہ کرپشن کی داغدار رقم حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ کیا ہم اب بھی یہ ماننے کے لیے تیار ہوں گے کہ بدعنوانی کے معمولی نتائج ہوتے ہیں؟

انہوں نے مزید لکھا ک  اگر کبھی بھی  ہم  نے یہ سمجھا ہے کہ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، تو یہی وقت ہوگا کہ عمران خان کے کرپشن مخالف موقف کی تعریف کی جائے۔ اگر کبھی بھی ہم نے یہ تسلیم کیا  ہے کہ بدعنوان کی شہرت رکھنے والوں کو منتخب نہیں کیا جانا چاہیے، تو یہی وقت ہے کہ وزیراعظم کے طرز عمل کو تسلیم کیا جائے ،  چاہے  اس وقت ان کی سیاسی موت  ہی کیوں نہ لکھی گئی ہو۔ اگر کبھی ہم یہ مانتے ہیں کہ خاندانی سیاست پاکستان کے لیے بری ہے، تواب وہ   وقت آئے گا کہ یہ سہرا اس شخص کے سر باندھا جائے گاجس نے  یہ بیانیہ ترتیب دیا کہ  قائدین کو خاندان کے نام پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی اہلیت  کی بنیاد پر کھڑا ہونا چاہیے ۔

وہ لکھتے ہیں کہ اگر کبھی ہم  نے مانا کہ عوامی فلاح و بہبود کیلیے معاشرے کے ہر فرد کی  صحت کی دیکھ بھال ، انسانی سرمائے کی ترقی اور غربت سے نمٹنا ضروری ہے، تو اس سمت میں پہلا قدم اٹھانے کا سہرا عمران خان کو جائے گا، اگر کبھی لوگ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف احتجاج میں ڈی چوک کو تحریر اسکوائر میں تبدیل کر دیں تو اس کا کریڈٹ عمران خان کو جائے گا۔جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کو اس بات پر یاد کیا جاتا ہے کہ”ہم گھاس کھائیں گے لیکن ایٹمی بم بنائیں گے“۔ عمران خان کو امریکا کو”ایبسولوٹلی ناٹ“ کہنے۔۔۔اور  یورپی یونین سےیہ  پوچھنے پر یاد کیا جائے گا کہ کیا ہم تمہارے غلام ہیں؟ عمران خان کویاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے  دنیا کو اسلامو فوبیا کے چیلنج سے آگاہ کیا  اور وہ اقدامات نہیں کیے جن سے خوش ہوکر امریکی صدر انہیں کال کرتے۔

ادریس خواجہ کے مطابق  تجزیہ کار کچھ بھی کہیں، خود عمران خان  اور ایک چھوٹی سی اقلیت ابھی اس حکومت کی سیاسی وصیت لکھنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ شاعر مشرق کے دلکش اشعار آخری گیند پھینکے جانے تک کھڑے رہنے کا سبق دیتے ہیں ۔

اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تُو فرزیں، میں پیادہ

بیچارہ پیادہ تو ہے اک مُہرۂ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!

(یعنی:اس کھیل میں درجہ بندی ضروری ہے؛ شطرنج کے کھلاڑی کی بدولت آپ ملکہ ہیں اور میں پیادہ۔ پیادے کی کیا بات کرنا وہ تو اس کھیل کاایک  معمولی حصہ ہے، یہاں تو  ملکہ کو بھی نہیں معلوم کہ شطرنج کا کھلاڑی کیا کرنا چاہتا ہے)۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’شاطر‘ کو وہ نام نہاد امپائر  نہ سمجھیں جو اقبال کے یہ اشعار لکھتے وقت موجود ہی نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اقبال  خدا کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر