حسن نثار کی رپورٹ کارڈ میں خاتون تجزیہ کار ریما عمر سے بدتمیزی

سینئر صحافیوں اور سماجی شخصیات کی حسن نثار کے رویے کی مذمت،جیو  نیوز کی انتظامیہ اور پیمرا سے حسن نثار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حسن نثار کوجیو نیوز کے براہ راست پروگرام کے دوران خاتون تجزیہ کار ریماعمر سے بدتمیزی پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سینئر صحافیوں اور سماجی شخصیات نے حسن نثار کے رویےکو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے جیو  نیوز کی انتظامیہ اور پیمرا سے حسن نثار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

حسن نثار کا اشتعال انگیز بیان، جیو نیوز منافرت کے خلاف اپنے اصول بھلا بیٹھا

وسیم بادامی سے تلخ کلامی، ارشد شریف لائیو شو چھوڑ گئے

گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں ریماعمر نے  پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے  موقف اپنا یا کہ ہم پتلی تماشے کی بات کرتے ہیں لیکن پتلی تماشا کرنے والے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔

ریما عمر نے مزید کہا کہ  میں نے یہ تہیہ کیا تھا کہ جب بھی  رپورٹ کارڈ میں آؤں گی اور پتلی تماشے کی بات ہوگی تو میں پتلی تماشہ کرنے والوں پر ضرور بات کروں گی کیونکہ اس شو پر لوگ اکثر بات کرتے ہیں کہ سیاست دان کس طرح  اشاروں پر چلنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جو پتلی تماشہ کرتا ہے اس کی بات ہم اس طرح نہیں کرتے جس طرح کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ  جب  ہم اس طرح کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں پر بھی بات کرنی چاہیے جو اس سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں،ان کی چالیں اس کا باعث بنتی ہیں ، میں تو ان کی بات ضرور کروں گی چاہے کوئی کرے نہ کرے۔

ریما عمر کی بات کے جواب میں جب حسن نثار کو بولنے کا موقع دیا گیا تو وہ ذاتی حملوں پر اتر آئے ۔انہوں نے ریماعمر کی بات کو نازیبا لہجے میں دہراتے ہوئے سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ سیاستدان جو بڑھاپے کو پہنچ گئے ہیں کیا  یہ لولے لنگڑے ،اندھے بہرے ہیں جو دوسروں کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ انہوں نےریما عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی پیدائش سے پہلے کا ڈرامہ چل رہا ہے۔

ریما عمر نے کہا کہ میں تو اسکی بھی مذمت کرتی ہوں اور اپنے اصولوں پر قائم ہوں۔ حسن نثار نے کہا کہ آپ جوکرتی ہیں  کرتی ہیں لیکن چیزوں کو گڈ مڈ اور کنفیوژ نہ کریں۔آپ کی سمجھ ابھی  چھوٹی ہے ، کھلے گی آہستہ آہستہ۔ اس پر ریما عمر نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ، میں آپ کی طرح cynic(دوسروں کو خود غرض سمجھنے والا) نہیں بننا چاہتی، میں جیسی ہوں  اس طرح خوش ہوں۔ریما عمر کی اس بات پر حسن نثار ہتھے سے اکھڑ گئے۔انہوں نے کہاکہ بی بی cynic کا پتہ بھی ہے کہ cynicism کیا ہوتا ہے، اس ملک میں جو cynic نہیں ہے وہ ایبنارمل ہے ،پاگل ہے۔

اس پر پروگرام کی میزبان علینہ فاروق شیخ نے مداخلت  کرتے ہوئے تحمل سےایک دوسرے کی بات سننے کا مشورہ دیا اور کہا کہ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے ، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اس پر حسن نثار نے کہا کہ کب ٹھیک ہوجائے ، ہزار سال بعد ٹھیک ہوجائے گا؟ یہ خوبصورتی نہیں ہے یہ Striptease(کسی کو محظوظ کرنے کیلیے برہنہ ہونا) ہے۔

حسن نثار کی جانب سے براہ راست پروگرام کے دوران ریما عمر سے بدتمیزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے قبل  دسمبر 2020 میں بھی حسن نثار نے جیو کے اسی پرورگرام میں ریما عمر سے بدتمیزی کی تھی۔

حسن ںثار نے پاکستانی جمہوریت  پر گفتگو کرتے ہوئے الیکشن میں پیسہ چلنے پر تنقید کی تھی جس کے جواب میں ریما عمر نے اپنا موقف بیان کرنا چاہا تو حسن نثار نے چیختے ہوئے ان کی بات سے اختلاف کیا جس پر ریماعمر نے انہیں ٹوکتے ہوئے بلندآواز میں بات کرنے سے منع کیا اور کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں کوئی بات کرتی ہوں تو آپ بیچ میں بلند آواز میں مداخلت کرتے ہیں جس سے اچھاتاثر نہیں جاتا۔ اس پر حسن نثار نے کہا کہ میں بہرا ہوں اس لیے اونچا بولتا ہوں جس پر ریما عمر نے کہا کہ لیکن میں بہری نہیں ہوں۔

گزشتہ  روز پیش آنے والے واقعے کا وڈیو کا کلپ سوشل میڈیا پر فوری طور پر وائرل ہوگیا اور سینئر صحافیوں ،سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے ریما عمر کے حق میں مہم شروع کردی گئی جبکہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ریما گزشتہ رات سے ٹرینڈنگ میں ہے۔ سینئر صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے براہ راست پروگرام میں نازیبا گفتگو  کرنے پر حسن نثار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے  اور اس کے ساتھ ہی حسن نثار کی گفتگو نہ کاٹنے پر پروگرام کے پینل پروڈیوسر اور میزبان علینہ فاروق شیخ کے پیشہ ورانہ رویے پر بھی تنقید ہورہی ہے۔

صحافی اور بلاگر اسد علی طور نے اپنے ٹوئٹ میں پروگرام کی میزبان علینہ  فاروق شیخ سے سوال کیا کہ آپ حسن نثار جیسے پاگل اور غلیظ کردار کے انسان سے اتنی شائستہ اور کسی حد تک معذرت خواہانہ گفتگو کیوں کررہی تھیں۔وہ ریما عمر پر براہ راست حملے کررہا تھا،ایسے میں آپ کو  مردوں کی اکثریت والے پروگرام واحد مہمان خاتون کا ساتھ دینا چاہیے تھا،دوسرے مرد شرکا کو خاموش دیکھ کر افسوس ہوا۔

سینئر صحافی فہد حسین نے لکھا کہ میں اشتعال انگیز رویے  کے مقابلے میں ریما عمر کے برداشت اور نرم رویے کا قائل ہوگیا ہوں۔آپ کو اور ہمت نصیب ہو۔

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینا چاہیے گالم گلوچ سے نہیں۔

سینئر صحافی مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ  اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی میڈیا مالکان اپنے اداروں میں برے رویے کی سزا دیں۔ حسن نثار جیسے عادی مجرموں کا احتساب ہونا چاہیے۔

سینئر صحافی عنبررحیم شمسی نے لکھا کہ  دراصل حسن نثار کو اپنے سے زہین خاتون کا مقابلہ صرف بدتمیزی اور ذاتی حملوں سے کرنا ہی آتا ہے۔ دلائل کے لئے عقل چاہئے۔

اداکارہ عفت عمر نے لکھا کہ ریما عمر آپ کی برداشت کو سلام۔

سماجی کارکن جلیلہ حیدر نےاپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ  اگر یہ شخص رپورٹ کارڈ کا حصہ ہوتو ریما عمر کو اس پروگرام میں نہیں بیٹھناچاہیے۔ وہ ان لوگوں کی تذلیل اور توہین کر رہا ہے جو اس کی رائے سے متفق نہیں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ لبرل شخص ہے۔

سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جیو کی کیا مجبوری ہے کہ اس مخبوط الحواس شخص کو لا کر پڑھی لکھی خواتین کو بیعزت کرے؟

عباس ناصر کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی نعمت خان نے لکھا کہ سر وہ تمیزدار کب تھے؟ شروع سے ہی بدتمیز آدمی ہیں لیکن اسکرین بھی مل رہی ہے اور بہت سارا پیسہ بھی، ان سیٹھوں کی جانب سے جن کے پاس فیلڈ میں کام کرنے والے اچھے صحافیوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ یہی ہماری صحافت ہے

متعلقہ تحاریر