حزب اختلاف حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی بجائے اپنا بیانیہ ترتیب دیں

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اپوزیشن جماعتوں کی سرکردہ قیادت عسکری حکام سے اپنی بے گناہی کے ثبوت مانگ رہی ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر ان کو کال کرلے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اور لیڈرشپ عسکری اداروں سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی بجائے اپنا بیانیہ ترتیب دیں اور الیکشن کی تیاری کریں۔ 3 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو وفاقی وزیر فواد چوہدری کے اعتراضات پر قرار داد کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 5 اے کے تحت مسترد کردیا۔

3 مارچ کو قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی اجازت سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ "تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے عمومی حالات میں یہ ایک جمہوری حق ہے ، اور اس حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہمارے آئین کا ایک اور آرٹیکل 5 اے ہے ، حب الوطنی ہر شخص پر فرض ہے ، مگر یہاں کیا ہوتا ہے ، 7 مارچ کو ہمارے ایک سفیر صاحب کو ایک آفیشل میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے ، باقاعدہ نوٹ ٹیکر کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کرتے ہیں ، اس ملاقات میں دوسرے ملک کے آفیشلز بھی بیٹھتے ہیں ، اس میٹنگ کی تاریخ کیا ہے 7 مارچ ۔ اس میٹنگ میں ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف ایک تحریک عدم اعتماد پیش کی جارہی ہے ، 7 مارچ کو یہ بتایا جاتا ہے جبکہ عدم اعتماد کا اس وقت تک پاکستان میں وجود بھی نہیں تھا۔ 8 مارچ کو عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے ، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان سے ہمارے تعلقات کا دارومدار اس عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی سے جڑا ہے ۔ اگر یہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کردیا جائے گا ، اور اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں تو آپ کا اگلا راستہ بہت سخت ہو گا۔ یہ ایک افیکٹف آپریشن ہے رجیم چینج کا اور وہ بھی ایک غیرملکی حکومت کی جانب سے۔ بدقسمتی سے اس کے ساتھ ہی ہمارے کچھ اتحادیوں اور ہمارے 22 لوگوں کا ضمیر جاگ جاتا ہے ، یہ فیصلہ عدم اعتماد کا نہیں بلکہ آرٹیکل 5 اے کا اسپیکر صاحب ۔ کیا 22 کروڑ لوگوں کی یہ ریاست نحیف و نزار ہے کہ باہر کی طاقتیں یہاں پر بیٹھ حکومتیں بدل دیں۔ بتایا جائے کہ کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل کی جاسکتی ہے ، کیا یہ آئین کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے یا نہیں ہے؟ کیا پاکستان کے عوام کٹھ پتلیاں ہیں؟ کیا ہم پاکستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کیا ہم غلام ہیں اور لیڈرآف اپوزیشن کے بقول فقیر ہیں؟ جناب اسپیکر اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشہ نہیں چل سکتا۔”

یہ بھی پڑھیے

امریکی کیبل کا معاملہ ، اپوزیشن حکومت کو ریڈ لائن عبور کرنے پر مجبور نہ کرے

ایم کیو ایم (لندن) کی تنظیمی سرگرمیاں بحال، رابطہ کمیٹی کے رکن بھی نامزد

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے تحریک عدم اعتماد پر اٹھائے گئے آئینی سوالات اور اعتراضات کو تسلیم کرتے ہوئے رولنگ دی کہ آئین کے آرٹیکل 5 اے کے تحت تحریک عدم اعتماد کی قرار داد آئین کے منافی ہے اس لیے مسترد کی جاتی ہے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ حزب اختلاف نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف 8 مارچ 2022 کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ۔ عدم اعتماد کی تحریک کو آئین اور قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق نہیں کہ وہ سازش کے تحت پاکستان کے عوام کی منتخب حکومت کو گرائے۔ وزیر قانون نے جو نکات اٹھائے ہیں ، وہ درست ہیں۔

اس لیے میں رولنگ دیتا ہوں کہ عدم اعتماد کی قرارداد آئین اور قومی خودمختاری کے منافی ہے۔ اور رولز اور ضابطے کے خلاف اس قرارداد کو مسترد کرتا ہوں۔ ایوان کی کارروائی روکی جاتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 54 کی شق تین کے تحت تفویض کردہ اختیارات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ 25 اپریل تک ملتوی کرتا ہوں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کیا ڈی جی آئی ایس پی آر واضح کریں گے کہ کیا نیشنل سیکورٹی کمیٹی (این ایس سی) اجلاس میں قومی اسمبلی کے 197 ارکان کو غدار اور غیر ملکی سازش کا حصہ قرار دیا گیا؟”

دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیکورٹی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ہم غیر جانبدار ہیں ، آپ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیکورٹی ادارے عوامی بحث سے باہر نکلیں۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی جو بات بار بار عمران خان جھوٹ کی بنا پر کرتا ہے ، جو عمران خان نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی بنا پر 197 ارکان کو غدار قرار دلوایا ہے ، میں آج چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مطالبہ کرتا ہوں اگر ہم نے غداری کی ہے تو ثبوت قوم کے سامنے لے آئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ” اب یہ معاملہ عمران خان یا متحدہ اپوزیشن کا نہیں ہے، اب یہ معاملہ پاکستان کا ہے، لہذا اس طرح کے حساس نوعیت کے معاملات میں تاخیر بھی ملک کے لیے نقصاندہ ہوسکتی ہے۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اپوزیشن جماعتوں کی سرکردہ قیادت عسکری حکام سے اپنی بے گناہی کے ثبوت مانگ رہی ہے ، اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر سیدھے سیدھے ان کو بلا کیوں نہیں لیتے۔ عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرکے حزب اختلاف کی الیکشن کی جانب جانے کی دیرینہ خواہش پوری کردی ہے ۔ اب ان سب کو چاہیے کہ وہ ایک بیانیہ ترتیب دیں اور عوام کی عدالت میں چلے جائیں اور انتخابات کی تیاری کریں جیسے عمران خان نے اپنا بیانیہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے اور کارکنان کو انتخابات کی تیاری کی ہدایت کردی ہے۔

متعلقہ تحاریر