حکومت کیخلاف عدالتی فیصلے پر فنکاروں کا غم و غصے کا اظہار

عتیقہ اوڈھو نے عمران خان کو ون مین آرمی قراریدیا،امریکا میں موجود گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کی عوام کو باہر نکلنے کی کال،ارمینہ خان ، ہارون شاہد اور شان کا بھی وزیراعظم سے اظہار یکجہتی

سپریم کورٹ کی جانب سےڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی رولنگ کالعدم قرار دینے اور قومی اسمبلی کی بحالی  کے فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر زبردست تنقید کاسلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ اداکاروں کی بڑی تعداد بھی عدالتی فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں۔

اداکارہ عتیقہ اوڈھو  نے اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر تبصرے  میں لکھا ہے کہ عمران خان ون مین آرمی ہے جو ان تمام لوگوں کے خلاف اکیلے کھڑا ہے جنہوں نے لوٹ مار کی ہے اور اقتدار میں آنے کی صورت میں بھی کرتے رہیں گے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان بدمعاشوں کے خلاف اس کی جدوجہد کامیاب ہو تو اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Atiqa Odho (@atiqaodhoofficial)

عتیقہ اوڈھو نے لکھا کہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان  ہر طرح سے پرفیکٹ نہ ہو لیکن یاد رکھیں اس نے ہر موڑ پر پاکستان کے لیے جنگ لڑی ہے۔صفر سے ابتدا کی  اور چھبیس سال کی جدوجہد کے جذبے اور عزم کے ذریعے پی ٹی آئی کو ایک قومی جماعت بنایا۔ آئیے اس کے اس مشکل سفر کا احترام کریں اور اپنے ملک کی خدمت جاری رکھنے میں ان کی مدد کریں۔ پاکستانی عوام کو بات کم اور عمل کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی فنکار عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے

شوبز شخصیات اور کھلاڑی تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر خوش

اداکارہ ارمینہ خان  نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ رومن ری پبلک کے آئینی بحران میں کیٹو، جولیس، پومپئی، سیسروم، کراسس جیسے  کردار شامل تھے اور اس دوران ہمارے پاس ڈیزل ہے۔بعدازاں انہوں نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا۔

گلوکارہ قرۃ العین بلوچ نے لکھا کہ  کیا ہم سب باہر نکل کر اس فیصلے کو مسترد کر سکتے ہیں؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں عوام کے ووٹوں کی ان ایم این ایز پر کوئی قدر نہیں جو اپنی جان اور اپنے ملک کے آدمیوں کو آسانی سے بیچ سکتے ہیں۔ میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں اور آپ کے لیے، اپنے لیے کھڑے ہوں۔

گلوکار ہارون شاہد نے لکھا کہ  فیصلے کا احترام کریں۔ آئیے اگلی جنگ کی طرف چلتے ہیں۔ ہفتے کو ہارے اتوار کو  پھر اٹھیں گے! ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس جدوجہد کی کوئی انتہا نہیں ہے، یا تو آپ ہار مان لیں یا آپ اپنی اگلی حرکت کا منصوبہ بنائیں۔ پاکستان زندہ باد، عمران خان زندہ باد!

ہارون شاہد نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ  پاکستان کی واحد قومی سطح کی جماعت  کو ختم کرنے  کیلیے 12سے زائد صوبائی سطح کی جماعتوں کو اتحاد کرنا پڑا۔ مہنگائی کے علاوہ ان کے ایجنڈے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے ۔ کیا ان کے پاس اس کا کوئی علاج ہے؟ مجھے واقعے شک ہے! پارٹی سیاست ایک طرف، پاکستان میں لیڈر ایک ہی ہے عمران خان!

ہارون شاہد نے مزید لکھا کہ شکر ہے پی ٹی آئی کے دور میں 23 مارچ کی پریڈ میں شرکت کرلی۔ مجھے ان لوگوں پر ترس آتا ہے جنہیں  اگلے سال  کی تقریب  میں فضلو کی صدارت میں شرکت کرنا پڑے گی۔

ہارون شاہد نے اپوزیشن رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  عدالتی فیصلے سے قبل  کے مولانا فضل الرحمٰن اور وزیراعظم عمران خان کے بیانات شیئر کیے۔ہارون شاہد کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اگر اسمبلی بحال نہ ہوئی تو فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے جبکہ  عمران خان نے کہا تھا کہ  جوبھی فیصلہ آیا تسلیم کریں گے۔انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ لوگ ایسے ہی جعلی ہو، جاؤ اپنی جمہوریت کے مزے اڑاؤ۔

اداکار شان شاہد نے عدالتی فیصلے قبل  ممکنہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں اس امید کا اظہار کیا کہ  انشااللہ! سپریم کورٹ  قبل از وقت انتخابات  کا فیصلہ دیکر سیاسی تعطل کو توڑ دے گی، پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ تحاریر