صہیونی فوج کا قبلہ اول پر حملہ ، 150 فلسطینی زخمی ، 500 سے زائد گرفتار
صہیونی فوجیوں نے مزاحمت کرنے پر مسجد اقصیٰ کے گارڈز سمیت 500 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا

قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو غیر قانونی صہیونی آبادکاروں کےلئے یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے خالی کرانے کےلئے قابض فورسز نے علی الصبح نماز فجر کے دوران اچانک دھاوا بولتے ہوئے کمپاؤنڈ میں موجود نمازیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور فائرنگ کی جس کے نیتجے میں کم سے کم 150 سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے، قابض فورسز نے 500 سے زائد فلسطینیوں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا۔
فلسطینی میڈیا کےمطابق قابض فورسز نے جمعہ کے روز فجر کی نماز کےد وران مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور اعتکاف میں بیٹھے عبادتگزاروں جن میں خواتین بھی شامل تھیں اپنی بربریت کا نشانہ بنایا، قابض فورسز نے باب المغاربہ (مراکشی دروازہ ) جو گذشتہ کئی سالوں سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے سے داخل ہوئے اور عبادت میں مصروف عبادت گزارو ں پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم 150 فلسطینی زخمی ہوگئے ،زخمیوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
صہیونی فوج کی دہشتگردی: 24 گھنٹوں میں دو خواتین سمیت پانچ فلسطینی شہید
صہیونی جیلوں میں 4ہزار سے زائد فلسطینی افطار سے محروم
صہیونی فوجیوں نے مزاحمت کرنے پر مسجد اقصیٰ کے گارڈز سمیت 500 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد میں بھی بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی جارہی ہے جبکہ میڈیا سے تعلق رکھنےو الے افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی فوج کا قبلہ اول پر حملہ غیر قانونی صہیونی آبادکاروں کےلئے مسجد اقصیٰ میں یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی کےلئے مسجد کو خالی کرانے کا اقدام ہے۔
وضح رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران غیر قانونی صہیونی آبادکاروں نے قابض فوجیوں کے حفاظتی حصار میں 50 سے زائد مرتبہ یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے نام پر مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا ہے مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی ہے ۔









