بلقیس بانو ایدھی کے انتقال پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعزیت
مرحوم عبدالستار ایدھی کی اہلیہ جمعہ کے روز مختصر علالت کے بعد کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں تھیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے معروف سماجی کارکن مرحوم عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس بانو ایدھی کے انتقال پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "بلقیس ایدھی کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں ، ان کی لگن اور انسانی خدمت کے کام کے لیے ان کی زندگی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک مثال ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کی تلخ یادوں نے جمائمہ کا ساتھ نہ چھوڑا
روسی بحری جنگی جہاز پر یوکرین کا حملہ، اسلحہ کا ذخیرہ تباہ
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مزید لکھا ہے کہ "ہندوستان میں بھی لوگ انہیں محبت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی روح کو سکون اور آرام نصیب ہو۔”
My sincere condolences on the passing of Bilquis Edhi. Her life long dedication to humanitarian work touched the lives of people across the globe. People in India too remember her fondly. May her soul rest in peace.
— Narendra Modi (@narendramodi) April 16, 2022
واضح رہے کہ جمعہ کے روز پاکستان کی معروف سماجی کارکن اور ایدھی فاؤنڈیشن کی روح رواں بلقیس بانو ایدھی 74 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں تھیں۔ انہیں تین دن قبل اسپتال میں داخل کروایا تھا۔ انہیں اچانک بلڈ پریشر گرنے کے بعد اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا تھا کہ بلقیس ایدھی "متعدد بیماریوں” میں مبتلا تھیں۔ وہ پھیپھڑوں کے مرض کے علاوہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھیں۔
بلقیس ایک پیشہ ور نرس تھی اور بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کی چھ دہائیوں سے زائد عرصہ انسانیت کی خدمت میں گزارا۔ اس کے خیراتی ادارے نے ملک بھر کے ایدھی ہومز اور مراکز میں جھولے رکھ کر ہزاروں بچوں کی زندگیوں کو بچایا تھا۔
پاکستانی معاشرے میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں ہلال امتیاز، لینن پیس پرائز، مدر ٹریسا میموریل انٹرنیشنل ایوارڈ برائے سماجی انصاف (2015) اور ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
پچھلے سال، انہیں ایک بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندہ پروفیسر یانگھی لی اور امریکی ماہر اخلاق اسٹیفن سولڈز کے ساتھ ساتھ ‘عشرے کی شخصیت’ بھی قرار دیا گیا تھا۔









