کابینہ کے بغیر فیصلے ، شہباز شریف سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف وزری کررہے ہیں

وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بغیر مالیاتی اقدامات جاری رکھ کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بغیر مالیاتی اقدامات اور مشاورت جاری رکھ کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے جسے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حکومت اقتدار میں آنے کے سات دن بعد بھی وفاقی کابینہ کی تشکیل میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے سے روکنے کی درخواست خارج

پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب ہوگا؟ ڈپٹی اسپیکر اور سیکریٹری اسمبلی کے درمیان ٹھن گئی

وزیراعظم شہباز شریف ، مسلم لیگ (ن) کی اقتصادی ٹیم سے ملاقاتیں بھی کررہے ہیں اور ان ملاقاتوں میں معیشت سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کی جارہی ہیں جو آئین اور سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی اقتصادی ٹیم کے ارکان جن میں مفتاح اسماعیل، عائشہ غوث پاشا ، احسن اقبال اور دیگر شامل ہیں کو ان ملاقاتوں میں سرکاری ریکارڈ تک رسائی دی گئی جو کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی صریحاً خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ لوگ موجودہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی وفاقی کابینہ میں کوئی پوزیشن ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور موڑ سے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک میٹرو بس سروس کا افتتاح کردیا ہے ، اس موقع پر وزیراعظم نے میٹرو بس پر سفر بھی کی اور افتتاحی تقریب سے خطاب بھی کیا۔

وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شہباز شریف نے منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بس سروس روزانہ ہزاروں مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرے گی۔ ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق، بعد میں میٹرو بس سروس کو روات تک بڑھا دیا جائے گا۔

وفاقی کابینہ کی مشاورت

وزیر اعظم شہباز شریف 72 گھنٹے بعد بھی وفاقی کابینہ کی تشکیل میں ناکام ہو گئے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے اتحادی جماعتوں سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی اور اطلاعات و نشریات کی وزارتیں اپنے پاس رکھے گی جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی وزارت خارجہ میں دلچسپی رکھتی ہے۔

ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارتوں کی اکثریت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تقسیم کی جائے گی جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں کو قومی اسمبلی میں ان کی نشستوں کے مطابق قلمدان دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

اگست 2016 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا تھا کہ کوئی بھی وزیر اعظم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر کوئی قانون سازی نہیں کرسکتا اور نہ ہی معیشت اور معاشی بل کے حوالے سے کوئی حکم صادر کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وزیراعظم اس حوالے سے اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے کسی بجٹ کی منظوری نہیں دے سکتا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے جاری کیا گیا حکم نامہ تین رکنی بینچ نے تیار کیا تھا۔ فیصلے کے مطابق وزیراعظم کے پاس کابینہ کے بغیر فیصلہ لینے کا اختیار نہیں ہوگا ، کیونکہ فیصلے کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، یعنی کابینہ کے پاس۔ اگر وزیراعظم یکطرفہ فیصلے کرے گا تو ایسا کرنا اقتدار پر قبضے کے مترادف ہوگا۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ 9 مارچ کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران کیا تھا، جو کراچی میں مقیم متعدد کمپنیوں میسرز مصطفیٰ امپیکس، "G موبائل” ، ایس ایس ایس انٹرپرائزز، فیکٹ انٹرنیشنل، براڈویز، ایم اے انٹرپرائزز، بلاش انٹرپرائزز اور نوید گابا پروپرائٹر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اپیل کنندہ سیلولر فونز اور ٹیکسٹائل سامان کے درآمد کنندگان ہیں اور انہوں نے اس وقت اپیلیں دائر کیں جب وفاقی حکومت نے 4 اپریل اور 30 ​​مئی 2013 تک درآمدی اشیا پر ٹیکس کی بعض چھوٹ واپس لے لی گئی تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دے کر کہا تھا کہ "عدالت کا یہ کام نہیں کہ وہ پاکستانی عوام کو حاصل آزادی کو من گھڑت تشریح کے حوالے کردے جس جمہوری روایات دفن ہو جائیں۔”

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ "وزیر اعظم کابینہ کو نظرانداز کرکے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔”

چیف ایگزیکٹو کا کام کابینہ یعنی وفاقی حکومت کی طرف سے کیے گئے پالیسی فیصلوں پر عملدرآمد کرانا ہے۔ فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ فیصلے لینے کے خود مجاز نہیں ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے وزیراعظم کے نہیں کابینہ کے فیصلے ہوتے ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے اپنے طور پر لیا گیا کوئی بھی فیصلہ قانون یا آئین کی عملداری سے محروم ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اسی طرح وزیر اعظم کو آئینی طور پر یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر مالیاتی اخراجات کی اجازت دے۔ تمام معاملات میں کابینہ کی پیشگی اجازت ضروری ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ رولز آف بزنس 1973 پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ، اور عمل نہ کرنے سے کوئی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ اسی طرح بجٹ کے اخراجات یا صوابدیدی سرکاری اخراجات صرف وفاقی کابینہ کی منظوری سے جاری ہوسکتے ہیں وزیراعظم خود اس حوالے سے کوئی فیصلہ اکیلے نہیں لے سکتے۔

شہباز شریف کو حلف اٹھائے ایک ہفتہ گزر گیا

نئی حکومت کو قائم ہوئے پورا ایک ہفتہ ہو گیا ، مگر شہباز شریف حکومت کی وفاقی کابینہ کا کہیں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ بندر بانڈ کا سلسلہ جاری ہے ۔ تمام اتحادی اپنی اپنی خواہش کے مطابق سیٹوں کی ڈیمانڈ کررہے ہیں ، کوئی کچھ مانگ رہا کوئی کچھ مانگ رہا ہے ، اور ایک پارٹی چاہ رہی ہے کہ اسے کوئی وزارت نہ دی جائے۔

اے این پی پہلے کہہ رہی تھی کہ خیبرپختون خوا کی گورنرشپ نہیں چاہیے مگر اب کہہ رہے کہ اسے تو گورنر شپ ہی چاہیے۔

گورنر بلوچستان کے لیے دو دعوے دار سامنے آ گئے ہیں۔ مینگل کی جماعت بھی چاہ رہی ہے اور جے یو آئی (ف) بھی چاہ رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے ساتھ ساتھ کابینہ میں مزید سیٹیں بھی چاہ رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر