24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت خدارا مراسلے کی انکوائری کروا لے
تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ جتنی جلدی اُس مراسلے کی انکوائری کروا لیتی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور اگر وہ مراسلہ جھوٹا ہوا تو سابق وزیراعظم کا بیانیہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نےکہا ہے کہ ہماری عدالت 24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت ہے ، کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ، تو ٹھیک ہے آپ کچھ وقت نکال کر اس مراسلے پر انکوائری کروا لیں جو سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سپریم کورٹ کو بھیجا تھا۔
عدالتیں رات کو 12 بجے کھلنے کے حوالے سے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ ہم آئین کے محافظ ہیں، سوشل میڈیا پر جو چل رہا ہے ہمیں اس کی پرواہ نہیں اور یہ عدالت چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے۔کسی کوعدالت پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں، سماعت کے موقع پر وکیل مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ جس ریفرنس میں آڈیو وڈیو کا ذکر کیا گیا اس پر حکومت نے خود کچھ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے
آدھی رات کو لگنے والی عدالتیں عزت کے قابل نہیں، فواد چوہدری
سری لنکن شہری قتل کیس، 6 مجرمان کو سزائے موت سنا دی گئی
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ازخود نوٹس لیں، سپریم کورٹ ازخود نوٹس لئے جانے کے طریقہ کار طے کرچکا ہے، کوئی شکایت ہے یا نہیں کیا ہورہا ہے ہم نہیں جانتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق "جیسا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالتیں 24 گھنٹے کام کرتی ہیں ، تو پھر وہ دھمکی آمیز مراسلہ جو سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے عدالت عظمیٰ کو بھیجا ہے وہ بھی دیکھ لیں کچھ وقت نکال کر ۔ اس کی بھی انکوائری کرائے جائے کیونکہ وہ دھمکی آمیز مراسلہ موجودہ ملکی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا ایشو بنتا جارہا ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ "سابق وزیراعظم عمران خان کا سارا بیانیہ ہی اس لیٹر کے اردگرد گھوم رہا ہے، اس لیے جتنی جلدی ممکن ہو سپریم کورٹ آف پاکستان اس مراسلے والے غبارے سے ہوا نکالے، کیونکہ اس غبارے نے ایک خطرناک موو کی شکل اختیار کرلی جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ، اگر سپریم کورٹ اس مراسلے کی انکوائری کروا لیتی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ، اور اگر وہ مراسلہ جھوٹا ہوا تو سابق وزیراعظم کا بیانیہ اپنی موت آپ مر جائے گا ، اور اگر وہ مراسلہ سچا ہوا تو جو جو کردار اس مراسلے کے پیچھے چھپے ہوں وہ بھی سامنے آجائیں گے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد جلسے میں ایک مراسلہ لہرایا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ وہ لیٹر اور سازش ہے جو ان کی حکومت کو گرانے کے لیے تیار کی گئی۔
سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔ انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں عوامی اجتماعات میں اپنی تقریروں کے دوران یورپی یونین (EU) کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی تھی۔
بعدازاں 16 اپریل کو کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے بتایا جائے کہ میں کیا جرم کیا تھا کہ رات 12 بجے عدالتیں کھولنا پڑیں۔
یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 8 مارچ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس کی کامیابی کے لیے کم از کم 172 اراکین اسمبلی کی حمایت درکار ہوتی ہے۔









