مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست، لاہور ہائی کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا
دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ریفر کردی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی عمرے پر جانے کی اجازت کیلئے دائر درخواست پر سماعت سے دو رکنی بینچ نے معذرت لی ہے۔
جسٹس شہباز علی رضوی اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت سے معذرت کرتے ہوئے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزارت اعلیٰ کی حلف برداری کا معاملہ ، حمزہ شہباز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
حمزہ شہباز کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر ایک تجزیاتی رپورٹ
عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کی ضمانت جس بینچ نے لی وہ ہی اس پر سماعت کرے۔ مریم نواز کی طرف سے احسن بھون ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
ایڈووکیٹ احسن بھون کا کہنا تھا کہ میرے موکل کی عدالت نے ضمانت منظور کر رکھی ہے۔ عدالتی حکم پر میری موکل نے اپنا پاسپورٹ ہائیکورٹ میں سرنڈر کر رکھا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ میری موکل مریم نواز عمرے کی ادائیگی کیلئے 27 اپریل کو سعودی عرب جانا چاہتی ہیں، پاسپورٹ سرنڈر ہونے کی وجہ سے عمرے کی ادائیگی نہیں ہو سکتی۔
احسن بھون کا کہنا تھا میری معزز سے درخواست ہے کہ عمرے کی ادائیگی کیلئے جانے کی اجازت دی جائے۔
ایڈووکیٹ احسن بھون کا کہنا تھا کہ عمرے کی ادائیگی کیلئے پاسپورٹ مریم نواز کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو ضمانت دیتے ہوئے پاسپورٹ سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔









