چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی کی راہیں جدا، ق لیگ تقسیم ہوگئی

چوہدری شجاعت کی سربراہی میں ایک دھڑا حکومتی اتحاد کو پیارا ہوگیا، چوہدری پرویز الہٰی اینڈ سنز کا پی ٹی آئی سے ساتھ نبھانے کافیصلہ، حسین الہٰی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے امیدوار نامزد

چوہدری شجاعت حسین  کے فرزند چوہدری سالک حسین کے وفاقی وزیر کا حلف اٹھانے اور چوہدری پرویز الہٰی کے فرزند  حسین الہٰی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کا امیدوار کیے جانے کے بعد مسلم لیگ ق عملاً دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

مسلم لیگ ق کا ایک دھڑ ا چوہدری شجاعت کی زیرقیادت وفاق میں  نومنتخب اتحادی حکومت سے جا ملا ہے جس کے بعد ان کے بیٹے چوہدری سالک حسین  اور چوہدری طارق بشیر چیمہ  شہبازشریف کابینہ میں وزیر بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات، غیرملکی سازش کا ثبوت نہیں ملا

رانا ثناء اللہ اور حنا ربانی کھر نے مراسلے میں امریکی مداخلت کے اشارے کو مسترد کردیا

دوسری جانب چوہدری پرویز الہیٰ کی سربراہی میں ق لیگ  کے دوسرے دھڑے نے سابقہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے ساتھ اپنا اتحاد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں منعقدہ تاریخی جلسے سے ق لیگ کے رہنما چوہدری مونس الہٰی نے بھی خطاب کیا تھا اور عمران خان کا ساتھ دینے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم منتخب کرانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کاگزشتہ روز ایک  ویڈیو بیان سامنے آیا تھا  جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے اور طارق بشیر چیمہ نے ان کی اجازت سے شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا۔

دریں اثنا  مسلم لیگ ق نے  چوہدری حسین الہٰی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے حسین الہٰی نے اپنے ٹوئٹ  میں لکھا ہے کہ ان اطلاعات کے بعد کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے باغی ارکان ملی بھگت سے اپنا قائد حزب اختلاف  لانے کی تیاری کررہے ہیں ، میری پارٹی نے مجھے اپوزیشن لیڈر کے لیے امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ  ہم  امپورٹڈ حکومت کے ساتھ کھڑے نہیں  ہوئے اور نہ ہی امپورٹڈ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔

متعلقہ تحاریر