پولیو فری پاکستان کا خواب پھر چکنا چور،15ماہ بعد پولیو کیس رپورٹ

شمالی وزیرستان میں 15 ماہ کا بچہ پولیو وائرس کا نشانہ بن کر عمر بھر کیلیے معذور ہوگیا،نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر

 پولیو فری پاکستان کا خواب ایک مرتبہ پھر چکنا چور ہوگیا۔ پاکستان میں 15 ماہ بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آگیا۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بل گیٹس انسداد پولیو کیلیے نتیجہ خیز بات چیت پر وزیراعظم کے شکرگزار

پولیو کے خاتمے، انسداد کورونا کیلیے پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے، بل گیٹس

پاکستان میں اس سے قبل آخری پولیو کیس قلعہ عبداللہ بلوچستان میں27 جنوری 2021 میں رپورٹ ہوا تھا۔وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیوکیس رپورٹ ہونے کے بعد بنوں میں ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایاگیا ہے۔

نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی)  کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے کہا ہے کہ  انتہائی افسوس کے ساتھ آگاہ کیا جاتا ہے  کہ پاکستان  میں  تقریباً 15 ماہ بعد پولیو وائرس کے ایک کیس کی تصدیق کی ہے جس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان میں 15 ماہ کا بچہ  مفلوج ہو گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی متعدی وائرس ہم میں سے سب سے زیادہ کمزور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتا ہے، جو زندگی بھر کے فالج یا موت کا شکار ہوجاتے ہیں ،دنیا میں کسی بھی بچے کو اس طرح وائرس کا شکار نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر ایسے وائرس سے جو روکا جا سکتا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز عامر اشرف کا کہنا تھا کہ یہ بچوں اور خاندان کے لیے ایک سانحہ ہے اور یہ پاکستان اور دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں کی بھی بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم افسردہ ہیں لیکن کوشش جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو کا کیسز خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقے میں سامنے آیا ہے جہاں پولیو وائرس گزشتہ برس ماحول میں پایا گیا تھا اور وہاں پر ہنگامی منصوبے پر کام کیا جا رہا تھا۔

متعلقہ تحاریر