وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل جدید دور کے بزنس آئیڈیاز سے نابلد نکلے
مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں پتا کہ ویب 3.0 ، ڈیجیٹل کرنسی اور فن ٹیک کمپنیاں کیسے کام کرتی ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرضے کی قسط کی منظوری لینے کے لیے واشنگٹن جانے والے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستانیوں کو شرمندہ کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ وزیر خزانہ ویب 3.0 ، فن ٹیک اور ڈیجیٹل کرنسی کے علم سے نابلد نکلے۔
اٹلانٹک کونسل اجلاس کے دوران گفتگو ایک میزبان نے مفتاح اسماعیل سے سوال کیا کہ اگلے 20 سالوں میں پاکستان ویب 3.0 اور ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے میں اپنی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لےجاسکتا ہے آپ اس نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔؟
یہ بھی پڑھیے
مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف شرائط مان لیں، پیٹرول مہنگا ہوگا
سابقہ حکومت نے رواں مالی سال 12.76 ارب ڈالر کا قرض لیا، رپورٹ
ویب 3.0 اور ڈیجیٹل کرنسی کے سوال کے پہلے پہل تو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل صرف مسکراہ کر رہ گئے تاہم پھر انہوں نے گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ ان نہیں پتا کہ ویب 3.0 کیا ہے اور یہ کس طرح سے کام کرتی ہے۔ لیکن انہیں یہ پتا ہے کہ گذشتہ سالوں میں فن ٹیک اور ڈیجیٹل کمینیوں نے پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری ہے ۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ کمپنیاں پھلے پھولیں ۔
Unbelievable! When Miftah was asked about Digital Currency and Web 3.0, he had no idea. When he was asked about relevant massive growth opportunity in Pakistan, he had no clue pic.twitter.com/42NCUtBzRJ
— Rahim Valliani (@rrrvalliani) April 23, 2022
ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ حکومت ان کمپنیوں کی کس طرح سےمدد کرسکتی ہے ہاں اگر حکومت ان سے دور رہے تو ان کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہو گا۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ ویب 3.0 ، ڈیجیٹل کرنسی اور فن ٹیک کمپنیاں کس طرح سے کام کرتی ہیں اس لیے میں اس پر زیادہ روشنی ڈالنے سے قاصر ہوں۔









