اسد مجید سے کوئی انکوائری نہیں کی اور مراسلہ دبانے کی بات بھی غلط ہے، ترجمان دفتر خارجہ
عاصم افتخار کا کہنا ہے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں وضاحت ہوچکی ہے کہ مراسلے کے حوالے سےکسی بیرونی سازش کے ثبوت سامنے نہیں آئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا ہے کہ امریکہ میں متعین سابق سفیر اسد مجید پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا، ان سے منسوب مراسلہ کئی روز تک دبانے کے حوالے سے خبریں بھی بے بنیاد، من گھڑت اور لغو ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا ہفتہ وار بریفنگ میں کہنا تھا کہ مراسلے وصول ہوا تو اس کا بغور جائزہ لیا گیا، دفتر خارجہ نے قانون کے مطابق احتجاجی مراسلہ امریکی سفارت کار کےحوالے کیا۔
یہ بھی پڑھیے
جبران ناصر نے دعا زہرہ کیس کے قانونی پہلو بتا دیئے
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کردیا گیا
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ مراسلہ دفترخارجہ پہنچا تو قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا، مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر اس کا سفارتی سطح پر جواب دیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں وضاحت ہوچکی ہے کہ مراسلے کے حوالے سےکسی بیرونی سازش کے ثبوت سامنے نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب مراسلہ سے متعلق بحث سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے.ہمیں پاکستان کے مفادات سے متعلق سفارتکاری پر توجہ دینا چاہیے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے سے مراسلے سے متعلق معاملے کی تفصیلی وضاحت ہوگئی۔ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ملکی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں۔
سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں وضاحت ہوچکی ہے کہ کسی بیرونی سازش کے ثبوت سامنے نہیں آئے، اب ہمیں پاکستان کے مفادات کی سفارتکاری پر توجہ دیتے ہوئے اس بحث سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔امریکہ میں متعین سابق سفیر اسد مجید نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے خود بتایا کہ ان سے انکوائری نہیں کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسد مجید نے خود کمیٹی کو بریفنگ دی ان سے انکوائری نہیں کی گئی، اسد مجید برسلز پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اب بلجئیم میں پاکستان کے سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔









