گندم کی پیداوار میں کمی ، شہباز شریف حکومت کےلیے دردسر بند گئی
معاشی ماہرین کا کہنا ہے پاکستان روس اور یوکرین سے سستی گندم خریدتا تھا تاہم روس یوکرین تنازعہ کے بعد سستی گندم کا حصول بھی حکومت کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔
ملک میں آٹے اور گندم کا بحران شدت اختیار کرنے لگا، نئی حکومت کے لیے خطرات بڑھنے لگے، روس یوکرین تنازعہ کی وجہ سے فوری امپورٹ کے چانس بھی مزید کم ہو گئے۔
ملک میں گندم کا بحران سر اٹھانے لگا، کم پیداوار حکومت کے لئے درد سر بن گئی۔ موجودہ سیزن میں گندم کی پیداوار کا ہدف 28.8 ملین ٹن مقرر کیا گیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق گندم کی پیداوار 26.1 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
تجارتی محاذ پر پاکستان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا موازنہ
اسٹیٹ بینک کا ڈاکٹر رضا باقر کو خراج تحسین، خدمات کااعتراف
ملک میں گندم کی مجموعی طلب 30 ملین ٹن یعنی تین کروڑ ٹن سے زائد ہے، اس لئے اب حکومت کو ملک میں 30 سے 35 لاکھ ٹن گندم کے اسٹاک کا فوری انتظام کرنا ہوگا جو حکومت کے لیے دوہری مشکل کا سبب بنے گا کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت بہت زیادہ ہے اور پاکستان ہمیشہ سستی گندم یوکرین اور روس سے درآمد کرتا ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد پاکستان کے لئے سستی گندم کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ پاکستان سے افغانستان سے گندم اور آٹا اسمگل ہوتا ہے اور وہ پاکستان میں بھی دوہری قلت کا سبب بنتا ہے، چونک اب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں موجود نہیں اس طرح افغانستان کے لئے براہ راست گندم خریدنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان میں گندم کی پیداوار، ذخائر اور طلب کے درمیان بالکل بھی توازن نہیں ہے جو پاکستان میں گندم کے بحران کو مزید شدید کر دے گا۔
پاکستان میں فلور ملز ایسوسی ایشن بھی سر پکڑے بیٹھی ہے اور ان کا یہ موقف ہے کہ حکومت انہیں رعایتی یا سرکاری نرخوں پر گندم فراہم نہیں کر رہی جس کی وجہ سے انہیں گندم اوپن مارکیٹ سے خریدنا پڑ رہی ہے اور ایسے حالات میں وہ مہنگی گندم اوپن مارکیٹ سے خریدنے کے بعد اسے رعایتی نرخوں پر یا سبسڈی کے ساتھ فراہم نہیں کر سکتے۔
فلو ملز ایسوسی ایشن کے لئے بڑھتی مشکلات ملک میں آٹے کی طلب میں بھی اضافہ کر رہی ہے اور یوں آٹے کی فراہمی اور ڈیمانڈ کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے جو ملک میں آٹے کی قلت کا سبب بن رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں تحریک انصاف کی حکومت کاشت کاروں کو یوریا اور ڈی اے پی فراہم کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ گندم کی پیداوار کم رہی، اپریل میں گرمی زیادہ پڑی اور گندم کا دانہ وقت سے پہلے پک گیا لیکن اس کا سائز چھوٹا رہ گیا ہے جس سے فی ایکڑ پیداوار کم ہوگئی۔
ان کا کہنا ہے کہ بہرحال بحران کی وجہ کچھ بھی ہو عوام اب یہ بحران موجودہ حکومت کے گلے ہی ڈالیں گے کیونکہ انہیں روٹی موجودہ حکومت سے ہی چاہئے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں گندم اب ایک خام مال بھی ہے اور اس سے ہزاروں بیکری آئٹمز تیار کی جاتی ہیں، گندم کا بحران ڈبل روٹی، بن سمیت تندوری روٹی بھی مہنگی کر دے گا۔









