عمران خان کے بیانات، کیا بھٹو سے متعلق واشنگٹن پوسٹ کی 1977 کی اسٹوری کا سیکوئل ہیں؟
سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر نے 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی تھی، اور کہا تھا کہ پاکستان اور فرانس کی حکومتیں سمجھوتہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو امریکی اقتصادی امداد سے محروم ہونا پڑے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 29 اپریل 1977 کو ایک انٹرویو میں اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ امریکا میرے سیاسی مخالفین کے ساتھ مل کر ایک "وسیع، زبردست، بہت بڑی بین الاقوامی سازش” کی مالی معاونت کر رہا ہے تاکہ مجھے عہدے سے ہٹایا جا سکے۔ یہ وہی بیانیہ ہے جس کا اظہار چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان آج کل کررہے ہیں۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں مبینہ سازش کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ویتنام میں امریکی کردار کی حمایت نہیں کی تھی اور اسرائیل کے خلاف عرب کاز کی حمایت کی تھی ، اس وجہ سے امریکا انہیں معاف نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت صرف انتخابی اصلاحات کے لیے آئی ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
عمران خان سیاسی آدمی نہیں اس لیے گالیاں دے رہے ہیں، سید خورشید شاہ
ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلی فلور سے بغیر کسی نوٹ کے ایک گھنٹہ اور 45 منٹ کی تقریر تھی ، امریکا کے خلاف تقریر کرتے ہوئے وہ اپنے ہاتھوں کو بار بار بلند کررہے تھے ، انہوں نے تقریر کے دوران امریکا کو "ایک ہاتھی سے تشبیہہ دی تھی جو بھولتا نہیں ہے۔”
سابق وزیراعظم نے الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے انہیں فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ خریدنے سے منع کیا تھا۔
سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر نے 1976 میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی تھی، اور کہا تھا کہ پاکستان اور فرانس کی حکومتیں سمجھوتہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ فورڈ انتظامیہ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر پاکستان نے خریداری کی تو اسے امریکی اقتصادی امداد سے محروم ہونا پڑے گا۔ جوکہ 1952 سے اب تک مجموعی طور پر 4.9 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اسی ہفتے اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام ایک امریکا مخلاف مظاہرہ ہوا تھا جس میں "جمی کارٹر مردہ باد” کے نعرے لگائے گئے تھے، جس پر بھٹو نے کہا تھا کہ اس کا ترجمہ "موت کو” یا "موت کے ساتھ” کیا جا سکتا ہے۔ "
واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار لوئس سیمنز کے مطابق 12 اپریل 1977 کو ایک امریکی سفارت کار نے اپنے دوست کو ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ "بھٹو کی پارٹی ختم ہو گئی ہے۔”
تاہم جب پاکستان نے اس پر احتجاج کیا اور اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تو "محکمہ خارجہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد” قرار دیا تھا۔”
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "امریکی حکومت کی نہ تو خواہش ہے کہ وہ وزیراعظم کی اپوزیشن کی حمایت کرنے یا پاکستان کے سیاسی عمل میں مداخلت کرنے کی کوئی کوشش کرے، اور نہ ہی انہوں نے ایسا کیا ہے۔”
واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار کے مطابق "وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں اس مبینہ ٹیلی فون پر گفتگو کا علم کیسے ہوا؟
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے نو جماعتی اتحاد (پی این اے) پر کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ جنہوں نے 7 مارچ کو بھٹو کے قومی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان بھر کے شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔
پی این اے کے ترجمان حسن محمود نے کہا کہ "انہوں نے ہم پر مغربی ایجنٹ ہونے اور بھاری رقوم حاصل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا نقطہ نظر بالکل بدل لیا ہے۔”
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مشترکہ اجلاس سے خلاف کرتے ہوئے الزام لگایا کہ "متحدہ اپوزیشن کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ، دنیا میں کہیں بھی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ ریاستیں مبینہ طور پر حزب اختلاف کے رابطے کررہی ہیں۔”
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق "اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں عام طور پر سننے والے اعداد و شمار 25 ملین ڈالر تک تھے۔”
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا کہنا تھا کہ "میں آپ کو بتاتا ہوں، یہ PNA کی بنیادی سازش نہیں ہے، یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے۔”
ثبوت کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ "کراچی اور کئی دیگر صنعتی شہروں میں گزشتہ ہفتے کی عام ہڑتال کو مزدور یونینز نے "پہیہ جام” کیا تھا، جسے صنعت کے پہیے جام سے تعبیر کیا گیا تھا۔”
واضح رہے کہ اگر ہم سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانات کا تجزیہ کریں تو صاف پتا چلتا ہے کہ عمران خان کی رجیم چینج ، ذوالفقار علی بھٹو کی رجیم چینج کا سیکوئل ہے۔
عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں خطاب کرتے ہوئے خط لہرایا تھا اور کہا تھا کہ یہ وہ مراسلہ ہے جس کے ذریعے پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ "عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرایا جائے ، اگر تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرایا گیا تو پاکستان کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے دوسری صورت میں اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کیا جاسکتا ہے۔”
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "امریکا کے انڈرسیکریٹری ڈونلڈلو کے ذریعے ہمارے سفارتکار کو دھمکی آمیز مراسلہ دیا گیا۔”









