میشا شفیع کا ویڈیو لنک پر بیان کا معاملہ، ہائی کورٹ میں کارروائی 18 مئی تک ملتوی

لاہور ہائی کورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کا ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل کورٹ میں بیان ریکارڈ کرنے کیلئے درخواست پر کارروائی 18 مئی تک ملتوی کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم نے میشا شفیع کی درخواست پر سماعت کی جس میں گلوکارہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل کورٹ میں بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عامر خان کو فاریسٹ گمپ کی نقالی میں 14 سال لگ گئے؟

اداکارہ نیلم منیر نے عمران عباس کا رشتہ قبول کرنے کی حامی بھرلی

میشا شفیع نے نشاندہی کی کہ وہ کینیڈا میں ہیں اور فوری وطن واپس نہیں آسکتی. اس لیے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانا چاہتی ہیں.

درخواست میں استدعا کی گئی کہ گلوکارہ کو اداکار علی ظفر کیخلاف ہتک عزت کے دعوی میں ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی اجازت دی جائے.

واضح رہے کہ  گلوکار علی ظفر کا میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے میں سیشن کورٹ لاہور نے میشا شفیع کی ویڈیو لنک کے ذریعے بیان پر جرح کی درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

لاہور کی سیشن عدالت نے میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

میشا شفیع اس وقت بیرون ملک اپنے مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں بھی اپنے میوزک پروجیکٹس کیلئے آتی رہتی ہے مگر عدالتی کاروائی تاحال مکمل نہیں کروا رہی۔

متعلقہ تحاریر