سابق وزیراعظم کا عوامی ریلیف پیکج ، شوکت ترین اور اسحاق ڈار کے متضاد بیانات
مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے سابق حکومت نے ریلیف پیکج کے لیے بجٹ میں کوئی رقم نہیں رکھی تھی جبکہ شوکت ترین کا کہنا ہے بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف کے لیے رقم ڈیوڈنڈ فنڈز سے حاصل کی گئی تھی۔
عوام اور معیشت کو سابق وزیر اعظم عمران خان کا 28 فروری کا عوامی ریلیف پیکج راس نہ آیا، اس ریلیف پیکج کے لیے سبسڈی کی رقم کا معمہ حل نہ ہوسکے، شوکت ترین اور اسحاق ڈار کے بالکل متضاذ نکات سامنے آگئے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے 28 فروری 2022 کو قوم سے خطاب میں عوامی ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں پٹرول اور بجلی کے ریٹ جون 2022 تک نہ بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے 300 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت لندن میں ، روپے اور اسٹاک مارکیٹ کا پاکستان میں بھٹہ بیٹھ گیا
پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات، 18مئی سے شروع ہونےکا امکان
9 مارچ 2022 کو اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ سبسڈی کی رقم تین طرف سے آئے گی۔ سب سے پہلے سرکاری اداروں سے یہ منافع آئے گا جو تین سے چار سال سے پڑے ہوئے ہیں۔
شوکت ترین کے مطابق آئل کمپنیوں کے لیے اس ڈیوڈنڈ کی رقم 1200 ارب روپے پڑی ہوئی ہے۔ اس میں سے 200 ارب روپے اس ڈیوڈنڈ سے آنے ہیں۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی اور کورونا ویکسین کے فنڈز کے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے 100 ارب روپے سے زیادہ کی رقم مل جائے گی تو اس سبسڈی کے لیے استعمال ہو گی۔
ادھر لندن میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شوکت ترین کے 9 مارچ 2022 کے اعلان کردہ فارمولے کو آڑھے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے 11 مئی کو لندن میں ایک میڈیا ٹاک میں یہ انکشاف کیا کہ سابق حکومت نے 28 فروری 2022 کے اعلان کردہ عوامی ریلیف پیکج کے لیے بجٹ میں کوئی رقم نہیں رکھی۔ اسی لیے آئی ایم ایف اس پر اعتراض کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق مارچ اور اپریل میں تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اس سلسلے میں سبسڈی کی جو رقم رکھی گئی ہے وہ کم پڑ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصونات پر اپریل میں 70 ارب روپے ، مئی اور جون میں 114 ، 114 ارب روپے کی سبسیڈی دی جائے گی ، مجموعی طور پر یہ سبسیڈی تین ماہ میں تین سو ارب روپے سے تجاوز کرجائے گی۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 28 فروری 2022 کے عوامی ریلیف پیکج کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے غلط بیانی کی کہ یہ سبسڈیز بجٹ فنڈڈ ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں تھا اور اسی لیے آئی ایم ایف کو اس پر تحفظات تھے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق سابق وزیر خزانہ شوکت ترین اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ لیکن آئی ایم ایف کے لیے اس کے بجٹ میں فنڈ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق آئی ایم ایف کو مارچ، اپریل، مئی اور جون تک سبسڈی کو محدود کرانا چاہتا ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ سبسڈی صرف ٹارگٹ کی جائے اور یہ سبسڈی جنرل سبسڈی نہ ہو۔ اس کےلیے رقم بجٹ سے آتی ہے یا سرکاری کمپنیوں کے ڈیوڈنڈ سے آتی ہے، اس کا اثر پاکستان کی معیشت پر ہی پڑے گا۔









