اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے روک دیا

توہین مسجد نبویﷺ کیس پر ریمارکس دیتے ہوئے عدالت نے کہا ہے معاشرے میں استحکام صرف سیاسی لوگ ہی لا سکتے ہیں ، مذہبی الزامات لگانا بہت بڑی بدقسمتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج سے روک دیا۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ اطہر من اللہ نے  پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مسجد نبوی واقعہ پر مقدمات کے اندراج کے خلاف فواد چوہدری اور دیگر درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

غیرقانونی بھرتی کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیئرمین پی اے آر سی کو نوٹس جاری

عدلیہ کے متوازی اختیارات کا استعمال، ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن سے جواب طلب

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے علاوہ وہ پارٹی  رہنماؤں کی جانب سے فیصل چوہدری، علی بخاری و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے وفاق کی نمائندگی کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا کہ ماضی میں بھی بہت غلطیاں ہوئیں مگر ایسا کبھی نہیں ہوا جیسا موجودہ حکومت کر رہی ہے۔پاکستان میں ہم نے کوئی فساد تو نہیں کرنا، وزیر داخلہ سے کوئی توقع نہیں ، مگر وزیر قانون سے یہ امید نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے فواد چوہدری سے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ عدالت اس کیس کو سنے ۔ جس پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آپ پر اعتماد نہیں ہوگا تو کس پر اعتماد ہوگا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ معاشرے میں استحکام صرف سیاسی لوگ ہی لا سکتے ہیں ، مذہبی الزامات لگانا بہت بڑی بدقسمتی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وجودہ حکومت کے علاؤہ کسی حکومت میں ایسا نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سری لنکن منیجر، مشال خان سمیت بہت سارے کیسسز ہمارے سامنے موجود ہیں۔

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے اسلام آباد پولیس کی رپورٹ جمع کرائی۔

فیصل چوہدری نے کہا کہ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار درخواستوں پر تفتیش ہورہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ مذہبی احساسات قابل احترام ہیں مگر ریاست کو دیکھنا چاہیے کہ مذہب کو غلط استعمال نہ کیا جائے ۔ریاست کا کام ہے کہ مذہب کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، ایسا کرنا خود توہین مذہب ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ریاست نے ماضی میں مذہب کے حوالے سے ایسے اقدامات کئے جو نقصان دہ ثابت ہوئے۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری سے دریافت کیا کہ کیا آپ کہ سکتے ہیں کہ ماضی میں مذہب کا سیاست کے  غلط استعمال نہیں کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ سیاست میں تحمل اور رواداری بہت ضروری ہے،سیاسی رہنماوں کو بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا،کیا سیالکوٹ کے واقعے سے سٹیٹ نے سبق نہیں سیکھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مدینہ منورہ میں جو واقعہ ہوا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے حکومت کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ ان معاملات کو غور سے دیکھے اور مذہب کو سیاست کے لیے استعمال نہ کرے۔ماضی میں جو ہوا اس سے بہت نقصان ہوا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا ریاست نے اپنی زمہ داری پوری کی ہیں؟ جب سے آئین بنا تب سے کسی نے اس چیپٹر پر توجہ ہی نہیں دی، عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں ریاست اس حوالے سے اپنی زمہ داریاں کیسے پوری کرسکتی ہے؟۔

دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل پر بھی رمضان میں حملہ کیا گیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لئے انہیں وقت دیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو مزید مقدمات درج کرنے سے روک دیا۔

عدالت کا اٹارنی جنرل کو اس معاملے کو دیکھنے کی بھی ہدایت کردی۔عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو ہدایت کرے کہ تمام مقدمات خارج کردے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 26 مئی تک کے لئے ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر