سابق چیف جسٹس جی بی رانا شمیم نے اپنے خلاف عائد فرد جرم کو چیلنج کردیا

اپیل میں رانا شمیم نے صحافی انصار عباسی ، روزنامہ جنگ اور جیونیوز چینل کے مالک میر شکیل الرحماناور صحافی عامر غوری کو بھی فریق بنا دیا ہے۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا محمد شمیم نے خود پرعائد فرد جرم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار رانا شمیم کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کریں گے۔

انٹرا کورٹ اپیل میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ جنہوں  نے بیان حلفی چھاپا انہیں چھوڑ کر صرف ان پر فرد جرم عائد کرنا غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری امداد کی تلاش میں غیر ملکی دوروں پر روانہ

سیکورٹی فورسز کا شمالی وزیرستان میں آپریشن، دو دہشتگرد ہلاک

انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ فرد جرم عائد کرنے کا حکمنامہ کالعدم قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے۔

اپیل میں ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اس حوالے کو کوئی بھی بات ریکارڈ پر نہیں کہ انہوں نے کسی کو بیان حلفی چھاپنے کے لئے دیا ہو۔

اپیل میں رانا شمیم نے صحافی انصار عباسی ، روزنامہ جنگ اور جیونیوز چینل کے مالک میر شکیل الرحماناور صحافی عامر غوری کو بھی فریق بنا دیا ہے۔

رانا شمیم کا انٹرا کورٹ اپیل میں کہنا تھاکہ انصار عباسی کو ٹرائل سے نکال کر کیسے پتہ چلے گا انہیں رانا شمیم کا بیان حلفی کیسے ملا۔؟ جبکہ مقدمہ کے مرکزی ملزم کو پرائیویٹ افراد کی یقین دہانی پر ڈسچارج کر دیا گیا حالانکہ قانون میں پرائیویٹ افراد کی یقین دہانی پر ایسا کرنے کا تصور موجود نہیں۔

رانا شمیم کا درخواست میں کہنا تھاکہ جنہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے اشاعت کی ان پر کیس ختم کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھاکہ وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کسی کو بیان حلفی چھپانے کو نہیں دیا  مگر ان کی واضح تردید کے باوجود ان پر فرد عائد کردیا گیا۔انہوں نے عدالت سے خود پرعائد فرد جرم ختم کرنے کی اپیل کی۔

متعلقہ تحاریر