پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 12700 اسکول شمسی توانائی پر منتقل

ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے پنجاب میں 10 ہزار 700 اور خیبر پختونخوا میں 2 ہزار اسکولوں  کو شمسی توانائی فراہم کر دی گئی،سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں منصوبے سے فائدہ نہیں اٹھاسکے

پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 12700 تعلیمی ادارے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کردگئے۔ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں پروگرام سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں پسماندہ ترین اورنیشنل گرڈ کی پہنچ سے دور  علاقوں میں شمسی توانائی کی سہولت فراہم کردی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

محکمہ تعلیم سکھر کی غفلت، تعلیمی اداروں سے درختوں کی کٹائی جاری

رتوڈیرو میں برسوں سے بند گورنمنٹ اسکول نے تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھول دیا

ایشیائی ترقیاتی بینک  کے مطابق  پاکستان میں 12 ہزار 700 اسکول کو شمسی توانائی سے منسلک کردیا گیا، پنجاب میں 10 ہزار 700 اسکول شمسی توانائی پر منتقل کیے گئے جبکہ   خیبر پختونخوا میں 2 ہزار اسکولوں  کو شمسی توانائی فراہم کر دی گئی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر  یونگ یو نے بھی اس سلسلے میں خصوصی بیان میں کہا ہے کہ  اس پروگرام کے تحت  گرمیوں بھی اسکولوں میں حاضری بہتر ہوگی، بچے تعلیم یافتہ ہوسکیں گے اور اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکیں گے۔

 ان کا کہنا تھاکہ ان میں سے بیشتر اسکول نیشنل گرڈ سے بہت دور تھے اور ان ہزاروں اسکول کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے بہت مہنگا عمل تھا۔ 12700 اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے اس منصوبے پر 32 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے۔

 کنٹری ڈائریکٹر ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق  شمسی توانائی اسکول میں گرمیوں میں بھی بچوں کی حاضری بہتر ہوئی ہے،  انہیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ان دور افتار اور پسماندہ علاقوں میں  بچے گرمی کی وجہ سے اسکول سے غیر حاضر نہیں ہوں گے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے اس پروگرام سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں نے تو فائدہ اٹھالیا ہے لیکن بلوچستان اور سندھ کی حکومتیں اپنے صوبوں کو اس سے مستفید نہیں کراسکیں۔

متعلقہ تحاریر