جناح اسپتال لاہور میں منکی پاکس بیماری کا پہلا مریض رپورٹ ہوگیا
یونیورسٹی آف میری لینڈ امریکا کے شعبہ متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر فہیم یونس کا کہنا ہے منکی پاکس کا وائرس کورونا وائرس کی طرح خطرناک نہیں ہے۔
لاہور کے جناح اسپتال میں منکی پاکس بیماری کا پہلا مریض رپورٹ ہوا، مریض جناح ہسپتال کے میڈیکل یونٹ ون میں زیر علاج ہے۔ کورونا وائرس کے بعد لاہور شہر میں نئی وبا آگئی، منکی پاکس سے لاہور کے شہری خوفزدہ ہو رہے ہیں
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر زکا کہنا ہے کہ منکی پاکس بیماری بندروں سے لگتی ہے۔ منکی پاکس بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب بیماری کے پھیلاؤ سے بچنے اور روک تھام کے لیے لیبارٹری اور سرویلنس کے عمل کو بڑھانے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی پروفیسر ذوالفقارعلی بھٹہ دنیا کے100بہترین طبی سائنسدانوں میں شامل
منکی پاکس کا کرونا جیسی وبا بننا ناممکن ہے، ڈاکٹر فہیم یونس
واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے بھی گزشتہ روز منکی وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں یونیورسٹی آف میری لینڈ امریکا کے شعبہ متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر فہیم یونس نے منکی پاکس کے حوالے سے دنیا بھر میں پائے جانے والے خوف و ہراس کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کی تھی۔
Monkeypox cases are concerning but the risk of this becoming a COVID like pandemic is ZERO%
Why? This virus:
– is NOT novel…
– is typically not deadly
– is less contagious than COVID
– has been around for 5 decades
– is prevented by smallpox vaccineStay calm folks:)
— Faheem Younus, MD (@FaheemYounus) May 23, 2022
ڈاکٹر فہیم یونس کا کہنا تھا منکی پاکس کے کیسز تشویش کا باعث ہیں لیکن اس بیماری کے کورونا جیسی وبائی مرض سے جوڑنا کسی بھی صورت ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ اس سے موت کے چانسز صفر فیصد ہیں۔
ڈاکٹر فہیم یونس نے اپنے وضاحتی ٹوئٹ میں منکی پاکس کے کورونا وبا جیسے خطرناک نہ ہونے کی وجوہات بھی بتادیں اور اس پر قابو پانے کا حل بھی تجویز کردیا ہے۔









