حمزہ شہباز کا انتخاب، کیا 63 اے کی تشریح پر پورا اترتا ہے؟
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے انتخاب کے خلاف دائر درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ میں جواب الجواب جمع کرا دیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے اپنے انتخاب کیخلاف درخواستوں پر تحریری جواب لاہور ہائی کورٹ میں داخل کرا دیا ہے اور واضح کیا ہےقانون کے مطابق سپریم کورٹ کی منحرف ارکان کی تشریح کا وزیر اعلیٰ کے انتخاب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
حمزہ شہباز نے ایک لاکھ جرمانہ بھی جمع کرا دیا۔ اُدھر لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ آئین میں منحرف ارکان کی سزا تو ہے لیکن ان ارکان سے ووٹ لینے والوں کیلئے کوئی سزا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائی کورٹ نے ڈھائی ماہ پر مشتمل حل شدہ کیسز کی تفصیلات جاری کردیں
پی ٹی آئی کا آزادی مارچ: پولیس کا کریک ڈاؤن ، متعدد رہنما اور کارکنان گرفتار
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے وزیر پنجاب کے انتخاب کیخلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں پر سماعت کی.
دالتی حکم پر داخل کرائے جواب میں حمزہ شہباز نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب عدالتی احکامات کی روشنی میں آئین و قانون کے مطابق ہوا اور سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر تشریح کا اطلاق ماضی سے نہیں ہو گا۔
16 صفحات مشتمل جواب میں نشاندہی کی گئی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب سپریم کورٹ کی 63-A کی تشریح سے پہلے ہوا ہے۔
حمزہ شہباز نے اپنے جواب میں استدعا کی کہ اُن کے انتخاب کیخلاف درخواستیں جرمانے کیساتھ مسترد کی جائیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے بھی اپنے عدالت میں داخل کرا دیا۔
عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز اور دیگر نے عدالتی جرمانے بھی جمع کرا دیا ہے. تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے نکتہ اٹھایا کہ سپریم کورٹ کی تشریح کا اطلاق ماضی سے ہو گا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ گر ماضی سے اطلاق ہو گا تو کیا ماضی کے سارے فیصلے ہو جائیں گے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ لا قانونیت سے کوئی فایدہ نہیں اٹھا سکتا ۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے منحرف اراکین کو ڈی نوٹیفائی کیا ہے۔ اسکا مطلب ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سن رہے ہیں کیوں کہ ڈی نوٹی فائی تو الیکشن کمیشن نے کیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ سپریم کورٹ کا شارٹ آرڈر یہ ہے کہ منحرف اراکین کو ووٹ کو شمار نہیں کرنا. اگر ووٹنگ نہیں ہوئی تو شمار نہیں ہو گا۔ درخواستوں پر مزید سماعت کل ہوگی۔









