دنیا گروپ نے شدید حکومتی دباؤ پر خاور گھمن کی چھٹی کردی

خاور گھمن نے بطور بیورو چیف اسلام آباد اے آر وائی نیوز میں شمولیت اختیار کرلی،دنیا گروپ کو ادارے کے صدر اور سینئر اینکر پرسن کامران خان کو نکالنے کیلیے بھی شدید حکومتی دباؤ کا سامنا، کامران خان 2 ماہ سے اسکرین سے غائب،برطانیہ میں مقیم ہیں،ذرائع

دنیا گروپ نے شدید حکومتی دباؤ پر خاور گھمن کی چھٹی کردی،دنیا گروپ کو ادارے کے صدر اور سینئر اینکر پرسن کامران خان کو نکالنے کیلیے بھی شدید حکومتی دباؤ کا سامنا ہے۔

کامران  خان 2 ماہ سے برطانیہ میں موجودگی کے باعث ٹیلی وژن اسکرین سے غائب ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو بینک کرپٹ قرار دے دیا

منی لانڈرنگ کیس، سلمان شہباز اور مقصود ملک کے وارنٹ جاری

دنیا نیوز کے بیورو چیف اور سینئر تجزیہ کار نے اپنے ٹوئٹ میں دنیا گروپ چھوڑ نے کی تصدیق کردی۔خاور گھمن نے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ میں نے دنیا ٹی وی سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

خاور گھمن نے کہا کہ ادارے میں 4 سالہ قیام کے دوران چیئرمین دنیا گروپ میاں عامر محمود اور گروپ ایم ڈی نوید کاشف نے ہمیشہ میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا ، مجھے مکمل ادارتی آزادی دی جس سے میں بھرپور مستفید ہوا اور  میں  نے اس آزادی کا آخری حد تک استعمال کیا۔

خاور گھمن نے مزید لکھا کہ اس دوران  مجھےپروگرام  تھنک ٹینک میں  ایاز امیر،ہارو ن رشید،سلمان غنی،حسن عسکری  اور مجیب الرحمان شامی جیسے لیجنڈحضرات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

خاور گھمن نے کہا کہ دنیا گروپ کے صدر کامران خان نے ہمیشہ میرے اچھے کام کی تعریف کی۔انہوں نے مزید کہا کہ بطور بیورو چیف دنیا ٹی وی  مجھے  بہترین رپورٹنگ ٹیم کی  قیادت کرنے کا اعزازحاصل رہا۔

خاور گھمن نے کہا کہ میں نے اے آر وائی ٹی وی میں شمولیت اختیار کرلی  اور اپنے صحافتی کیریئر  کے نئے چیلنجز کا اسی جوش و جذبے کے ساتھ سامنا کرنے کیلیے پرامید ہوں۔

دوسری جانب اے آر وائی میڈیا گروپ کے سربراہ سلمان اقبال نے بھی خاور گھمن کی اے آر وائی میں شمولیت کی تصدیق کردی۔ اپنے ٹوئٹ میں سلمان اقبال نے  لکھا کہ مجھے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ سینئر صحافی خاور گھمن بطور بیورو چیف اسلام آباد اور سیاسی تجزیہ کار اے آر وائی کا حصہ بن چکے ہیں، میں انہیں اے آر وائی فیملی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

یاد رہے کہ دنیا نیوز کے صدر کامران خان  بھی شدید حکومتی دباؤ کے باعث 2 ماہ سے ٹی وی اسکرین سے غائب ہیں اور لندن میں مقیم ہیں۔ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ دنیا میڈیا گروپ کے سربراہ میاں عامر محمود کو کامران خان  کو برطرف کرنے کیلیے شدید دباؤکا سامنا ہے تاہم وہ اس معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کامران خان انتہائی سنگین دھمکیوں کے باعث ملک چھوڑ کر لندن میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں اور اسی وجہ سے 2 ماہ سے زائد عرصے سے اپنا پروگرام نہیں کرسکے ہیں۔

متعلقہ تحاریر