مالی سال 23-2022 کے ترقیاتی اخراجات کی تفصیل نیوز 360 پر

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل 10 جون کو 8894 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے 10 جون کو مالی 2022-23 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے ، 8 کھرب 894 ارب کے بجٹ میں پیش کی جانے والے ترقیاتی اخراجات کی تفصیلات نیوز 360 نے حاصل کرلی ہیں ۔ دستاویزات کے مطابق ترقیاتی اخراجات کے لئے 800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق مقامی ذرائع سے حاصل والی آمدنی میں سے 730 ارب روپے جبکہ غیرملکی امداد سے حاصل ہونے والی آمدنی سے 70 ارب روپے ترقیاتی اخراجات پر خرچ کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مذاق بنا دیا

حکومت کتنے خسارے کا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے؟

دستاویزات کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 121 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ پانی کے منصوبوں کے لئے 96 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق صوبوں اور اسپیشل ایریاز کے لئے 96 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ کیبنٹ ڈویژن کے لئے 60 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے دستاویزات کے مطابق خیبرپختوان خوا میں ضم ہونے والے ضلعوں کے لئے 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ، جبکہ توانائی کے منصوبوں کے لئے 49 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور ریلوے کے لئے 33 ارب روپے کا رکھنے کی تجویز ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کے لئے 25 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ، وفاقی وزارتوں اور محکموں کا بجٹ 538 ارب روپے مختص  ہے، سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ این ایچ اے کو  121 ارب روپے ملے گا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آبی وسائل کیلئے 96 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیر اور  گلگت بلتستان کے لیے  96 ارب 36 کا ترقیاتی بجٹ مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ اعدادوشمار کے مطابق ترقیاتی کاموں کےلیے کابینہ ڈویژن کو60 ارب کا بجٹ ملے گا، توانائی کے شعبے میں پیپکو کے لیے 49 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ  مختص ہے۔

ریلوے کے لیے  33 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کو 41 ارب 87 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، ایوی ایشن کے لیے ڈھائی ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے  9.5 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق تعلیمی منصوبوں کے لیے 6 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا اور ہاؤسنگ کے لیے  11 ارب 60 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ  رکھا گیا ہے۔

 بجٹ دستاویزات کے مطابق وزارت داخلہ کے لیے 10 ارب 47 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ وزارت صحت کے لیے 12 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے ، وزارت غذائی تحفظ کے لیے 12 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ اسی طرح میری ٹائم افیئرز   کے لیے  3.1 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص ہے۔

متعلقہ تحاریر