جوڈیشل مجسٹریٹ نے نمرہ کاظمی کو مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے دعا زہرہ اغواء کیس میں گرفتار 10 ملزمان کو ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

کراچی سے ڈیرہ غازی خان جا کر شادی کرنے والی نمرہ کاظمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں اپنی مرضی سے تونسہ گئی تھی ، میری عمر 18 سال ہے اور میں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے دعا زہرہ اغواء کیس میں گرفتار 10 ملزمان کو ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
تفصلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں نمرہ کاظمی کے مبینہ اغواء سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، پولیس نے نمرہ کاظمی اس کے شوہر نجیب شاہ رخ کو عدالت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی سے لاپتہ دعا زہرہ اور نمرہ کاظمی نے پنجاب میں نکاح کرلیا
سندھ ہائی کورٹ کا نمرہ کاظمی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم
جوڈیشنل مجسٹریٹ شرقی کے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے نمرہ کاظمی کا کہنا تھا مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا ، میں اپنی مرضی سے تونسہ گئی تھی ، میری عمر 18 سال ہے۔
نمرہ کاظمی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا ہے، میں نے اپنی مرضی سے نجیب شاہ رخ سے شادی کی ہے۔
نمرہ کاظمی کے بیان کو بنیاد بنا کر عدالت نے نمرہ کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازات دے دی۔
عدالت کا کہنا تھا نمرہ کاظمی جس کے ساتھ جانا چاہے جا سکتی ہے۔ شیلٹر ہوم نمرہ کاظمی سے پانچ لاکھ کے ذاتی مچلکے وصول کرے۔ عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو کیس کا چالان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
ملزم نجیب شاہ رخ کے وکیل محمد فاروق کا کہنا تھا نجیب شاہ رخ کی جانب سے کل درخواست ضمانت سیشن کورٹ میں دائر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ملزم نجیب شاہ رخ عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہے ، نمرہ کاظمی کے اغواء کا مقدمہ سعود آباد تھانے میں درج ہے۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے دعا زہرہ اغواء کیس میں گرفتار 10 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے ، تمام 10 ملزمان کو ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا
عدالت کا کہنا تھا ملزمان کو جب پیش ہونے کا حکم دیا جائے گا پیش ہوں، ملزمان تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
تاہم عدالت نے دو ملزمان نکاح خواں غلام مصطفیٰ اور گواہ اصغر کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔









